ملک میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ 5,23,962 روپے پر پہنچ گیا

پاکستان میں سونے اور چاندی کی تازہ قیمتوں میں اضافہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

فی تولہ سونا مزید 7,900 روپے مہنگا، نئی قیمت 5 لاکھ 23 ہزار 962 روپے

ملک میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے صورتحال مزید سنجیدہ ہوگئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق فی تولہ سونا 7 ہزار 900 روپے مہنگا ہوکر 5 لاکھ 23 ہزار 962 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 6 ہزار 773 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 49 ہزار 212 روپے مقرر ہوگئی ہے۔ چاندی بھی اس دوڑ میں پیچھے نہ رہی اور فی تولہ چاندی 358 روپے اضافے کے ساتھ 8 ہزار 404 روپے تک جا پہنچی۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ گزشتہ روز بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 13 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 933 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی تھی۔ عالمی سطح پر ہونے والے اس اضافے کے اثرات براہِ راست مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے، جس کے باعث ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت 1 ہزار 300 روپے بڑھ کر 5 لاکھ 16 ہزار 62 روپے ہوگئی تھی جبکہ 10 گرام سونا 1 ہزار 114 روپے مہنگا ہوکر 4 لاکھ 42 ہزار 439 روپے کا ہوگیا تھا۔ اسی طرح چاندی کی قیمت میں بھی گزشتہ روز 32 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کے بعد فی تولہ چاندی 8 ہزار 46 روپے تک پہنچ گئی تھی۔
معاشی ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کئی عوامل کا نتیجہ ہے۔ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، بڑی معیشتوں میں شرح سود سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی، اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی جیسے عوامل سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کی طرف مائل کرتے ہیں۔ سونا روایتی طور پر ایک محفوظ اثاثہ سمجھا جاتا ہے، اسی لیے جب بھی عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہوتی ہے تو سرمایہ کار سونے کی خریداری میں اضافہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔
مقامی سطح پر ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ بھی سونے کی قیمتوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ چونکہ پاکستان میں سونے کی قیمت کا تعین عالمی مارکیٹ میں ڈالر کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس لیے اگر روپے کی قدر میں کمی واقع ہو تو سونا مزید مہنگا ہوجاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں روپے پر دباؤ اور درآمدی اخراجات میں اضافے نے بھی قیمتوں میں اضافے کو تقویت دی ہے۔
صرافہ بازاروں کے تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث خریداروں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ شادی بیاہ کے سیزن کے باوجود لوگ بڑی خریداری سے گریز کررہے ہیں اور زیادہ تر افراد پرانے زیورات کی تبدیلی یا محدود مقدار میں خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کے برعکس سرمایہ کار طبقہ سونے کو مستقبل کے لیے محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے خریداری میں دلچسپی لے رہا ہے۔
چاندی کی قیمت میں اضافہ بھی قابلِ ذکر ہے۔ اگرچہ سونے کے مقابلے میں چاندی نسبتاً کم قیمت دھات ہے، لیکن اس کی صنعتی طلب اور سرمایہ کاری کی اہمیت بھی کم نہیں۔ عالمی منڈی میں چاندی کی طلب میں اضافے اور مقامی سطح پر درآمدی لاگت بڑھنے کے باعث اس کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مستحکم نہ ہوسکی تو آئندہ دنوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں سونے کی قیمتیں نئی بلند ترین سطحیں بھی چھو سکتی ہیں، خاص طور پر اگر عالمی سطح پر مالیاتی پالیسیوں میں نرمی یا کسی بڑے معاشی بحران کے آثار نمایاں ہوئے۔
دوسری جانب عام شہریوں کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ سونا نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ روایتی طور پر شادیوں اور ثقافتی تقریبات کا اہم حصہ بھی ہے۔ قیمتوں میں بے پناہ اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی پہنچ سے سونے کو مزید دور کردیا ہے۔ بہت سے خاندان اب سونے کے بجائے متبادل زیورات یا کم وزن کے سیٹ خریدنے پر غور کررہے ہیں۔
حکومت اور متعلقہ ادارے اگرچہ براہِ راست سونے کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کرسکتے کیونکہ یہ عالمی منڈی سے جڑی ہوتی ہیں، تاہم معاشی استحکام، روپے کی قدر میں بہتری اور درآمدی پالیسیوں میں توازن کے ذریعے بالواسطہ اثر ضرور ڈالا جاسکتا ہے۔ معاشی استحکام کی صورت میں نہ صرف سونے بلکہ دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی استحکام آسکتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے کی حالیہ قیمت 5 لاکھ 23 ہزار 962 روپے فی تولہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطحوں میں شمار کی جارہی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی اور مقامی معاشی عوامل کس قدر گہرے اثرات مرتب کررہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک موقع ہوسکتا ہے، لیکن عام خریدار کے لیے یہ ایک بڑا مالی بوجھ بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں عالمی منڈی کے رجحانات اور ملکی معاشی پالیسیوں پر گہری نظر رکھنا ناگزیر ہوگا، کیونکہ یہی عوامل طے کریں گے کہ سونے اور چاندی کی قیمتیں کس سمت جاتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]