عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونا مزید مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 55 ہزار سے تجاوز
بین الاقوامی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان برقرار ہے، جس کے باعث قیمتی دھاتیں عام صارف کی پہنچ سے مزید دور ہوتی جا رہی ہیں۔ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اثرات براہِ راست مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سونے اور چاندی کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مقامی مارکیٹ میں ایک تولہ سونا مزید 2200 روپے مہنگا ہو گیا ہے، جس کے بعد ایک تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 55 ہزار 762 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف خریداروں بلکہ زیورات کے کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
اسی طرح دس گرام سونا 1800 روپے کے اضافے کے بعد 3 لاکھ 90 ہزار 742 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران قیمتوں میں ہونے والا اضافہ غیر معمولی نوعیت کا ہے، جس نے مارکیٹ میں بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا، جب فی تولہ سونا 2700 روپے مہنگا ہو گیا تھا۔ اس اضافے کے بعد دس گرام سونے کی قیمت 2315 روپے اضافے کے ساتھ 3 لاکھ 88 ہزار 856 روپے تک پہنچ گئی تھی۔ مسلسل دو دنوں میں ہونے والا یہ بڑا اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی مانگ میں تیزی آ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سرمایہ کار غیر یقینی معاشی حالات کے باعث سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکا اور یورپ میں مہنگائی کی بلند شرح، شرحِ سود سے متعلق خدشات اور عالمی تنازعات نے سونے کی قیمت کو مزید سہارا دیا ہے۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں ایک تولہ چاندی 78 روپے اضافے کے بعد 6900 روپے کی نئی بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔ چاندی کی قیمت میں اضافہ اگرچہ سونے کے مقابلے میں کم ہے، تاہم اس کا تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ قیمتی دھاتوں کی مجموعی مارکیٹ دباؤ کا شکار ہے۔
سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام صارفین کو بری طرح متاثر کیا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو شادی بیاہ یا دیگر تقریبات کے لیے زیورات خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ زیورات فروشوں کے مطابق قیمتوں میں اس قدر تیزی سے اضافے کے باعث خرید و فروخت میں واضح کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، کیونکہ لوگ خریداری کو مؤخر کر رہے ہیں۔
کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سونے کی مارکیٹ مزید سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔ تاہم سرمایہ کار طبقہ اب بھی سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ترجیح دے رہا ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں استحکام کے بجائے مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر سونے کی قیمتیں نہ صرف عالمی نرخوں سے متاثر ہوتی ہیں بلکہ روپے کی قدر میں کمی بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب روپے کی قدر کم ہوتی ہے تو درآمد شدہ سونا مہنگا پڑتا ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
اگر عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں مقامی سطح پر سونا مزید مہنگا ہو جائے۔ ایسے میں حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ معاشی استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ عوام پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
خلاصہ یہ کہ بین الاقوامی اور مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ صرف معاشی چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سطح پر سرمایہ کار اب بھی سونے کو محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہیں۔ عام صارفین کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک اہم موقع کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

