سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر، چاندی میں بھی ریکارڈ اضافہ

سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پاکستان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں نے تمام ریکارڈ توڑ دیے

عالمی اور مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس نے سرمایہ کاروں، کاروباری حلقوں اور عام صارفین کو یکساں طور پر حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ عالمی سیاسی کشیدگی، معاشی غیریقینی، جیوپولیٹیکل تنازعات اور ڈالر کی کمزوری نے قیمتی دھاتوں کو ایک بار پھر محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven) کے طور پر نمایاں کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سونے اور چاندی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حالیہ دنوں میں یورپین یونین کے ممالک اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی اور تجارتی کشیدگی، مشرق وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی آمد، اور اس کے ردعمل میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں وسیع پیمانے پر فوجی مشقوں نے خطے میں ممکنہ جنگ کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ان حالات کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید بے یقینی کی فضا قائم ہو چکی ہے، جس کا براہِ راست فائدہ سونے اور چاندی کو پہنچا ہے۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں فی اونس سونے کی قیمت یکدم 211 ڈالر کے اضافے کے بعد 5 ہزار 293 ڈالر کی نئی تاریخ ساز سطح پر پہنچ گئی۔ یہ اضافہ عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں تبدیلی اور خطرات سے بچاؤ کی حکمت عملی کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں اس زبردست اضافے کے اثرات فوری طور پر مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی منتقل ہوئے۔

پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بدھ کے روز ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ایک روزہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں 24 قیراط خالص سونے کی فی تولہ قیمت میں یکدم 21 ہزار 100 روپے کا اضافہ ہوا اور قیمت 5 لاکھ 51 ہزار 662 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سونے کی قیمت اس قدر بلند سطح کو چھو گئی ہو، جس نے سونے کے زیورات خریدنے والوں اور شادی بیاہ کے منصوبے بنانے والے شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

اسی طرح فی دس گرام سونے کی قیمت میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 18 ہزار 90 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 72 ہزار 961 روپے کی نئی تاریخ ساز سطح پر پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی حالات میں بہتری نہ آئی تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

چاندی کی قیمتیں بھی سونے کے ساتھ ساتھ نئی بلندیوں کو چھوتی دکھائی دیں۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 2 ڈالر 36 سینٹس اضافے کے بعد 114 ڈالر 27 سینٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس اضافے کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ چاندی کی قیمت 271 روپے بڑھ کر 11 ہزار 911 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر آ گئی، جبکہ فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 232 روپے اضافے سے 10 ہزار 211 روپے تک جا پہنچی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ڈی ڈالرائزیشن (De-dollarization) کی پالیسی نے امریکی ڈالر کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں ڈالر گزشتہ چار سال کی کم ترین سطح پر آ چکا ہے۔ چین، روس، برازیل، اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتیں امریکی ڈالر پر انحصار کم کر کے سونے اور دیگر متبادل کرنسیوں کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس سے عالمی سطح پر سونے کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ جیوپولیٹیکل خطرات، جنگی خدشات، توانائی بحران، اور عالمی کساد بازاری کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو اسٹاک مارکیٹس اور دیگر خطرناک سرمایہ کاری سے نکال کر سونے اور چاندی جیسے محفوظ اثاثوں کی طرف راغب کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیمتی دھاتوں کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر نئی ریکارڈ سطحیں قائم کر رہی ہیں۔

دنیا کے بیشتر ممالک کے مرکزی بینکس (Central Banks) بھی خالص سونے کی خریداری میں نمایاں اضافہ کر رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق کئی ممالک نے اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سونا خریدنا شروع کر دیا ہے۔ اس رجحان نے عالمی مارکیٹ میں سونے کی طلب کو مزید تقویت دی ہے، جس کا براہِ راست اثر قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

مقامی ماہرین کے مطابق اگر عالمی سیاسی کشیدگی برقرار رہی، مشرق وسطیٰ میں حالات مزید بگڑے، یا امریکی ڈالر مزید کمزور ہوا تو سونے اور چاندی کی قیمتیں مستقبل قریب میں مزید بلند سطحیں بھی عبور کر سکتی ہیں۔ تاہم، اگر عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں اور خطے میں امن کی فضا قائم ہوئی تو قیمتوں میں وقتی استحکام یا معمولی کمی بھی ممکن ہے۔

مجموعی طور پر موجودہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ سونا اور چاندی نہ صرف زیورات بلکہ عالمی معیشت میں اعتماد، خوف اور غیریقینی کے پیمانے بن چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں عالمی سیاست اور معیشت کی سمت ہی اس بات کا تعین کرے گی کہ قیمتی دھاتوں کی یہ قیمتیں کہاں تک جاتی ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]