ہیٹ ویو الرٹ، سندھ میں شدید گرمی کی پیشگوئی
Provincial Disaster Management Authority Sindh نے سندھ بھر میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے خدشے کے پیش نظر اہم الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق 25 مئی سے 31 مئی تک صوبے کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے جبکہ بعض شہروں میں پارہ 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے سندھ کے مطابق آنے والے دنوں میں موسم انتہائی گرم اور خشک رہے گا جس کے باعث شہریوں کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سندھ کے مختلف اضلاع شدید گرمی کی لپیٹ میں
جاری کردہ ہیٹ ویو الرٹ کے مطابق سندھ کے کئی اضلاع شدید گرمی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں:
- Sukkur
- Shikarpur
- Jacobabad
- Larkana
- Dadu
- Hyderabad
- Badin
- Thatta
- Jamshoro
- Mirpur Khas
- Sanghar
شامل ہیں جہاں شدید گرمی کی لہر شہریوں کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
درجہ حرارت 50 ڈگری تک جانے کا امکان
Provincial Disaster Management Authority Sindh کے مطابق سندھ کے بالائی علاقوں میں درجہ حرارت 47 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کی شدید گرمی انسانی صحت کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کیلئے۔ ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
کراچی میں بھی شدید حبس کا امکان
اگرچہ Karachi میں درجہ حرارت 35 سے 38 ڈگری کے درمیان رہنے کی توقع ہے، تاہم ہوا میں نمی کے تناسب میں اضافے کی وجہ سے گرمی کی شدت زیادہ محسوس کی جا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندری ہواؤں میں کمی اور نمی کے باعث شہریوں کو شدید حبس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے ہیٹ انڈیکس معمول سے کہیں زیادہ ہو جائے گا۔
بڑی عید کے دوران احتیاطی تدابیر
چونکہ شدید گرمی کا یہ سلسلہ عیدالاضحیٰ کے دنوں میں متوقع ہے، اس لیے حکام نے شہریوں کو خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ:
- غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں
- زیادہ پانی اور مشروبات کا استعمال کریں
- بچوں اور بزرگوں کو ٹھنڈی جگہ پر رکھیں
- قربانی کے جانوروں کیلئے سایہ اور پانی کا مناسب انتظام کریں
- دھوپ میں کام کرنے والے افراد وقفے وقفے سے آرام کریں
ماہرین صحت کی ہدایات
طبی ماہرین کے مطابق شدید گرمی کے دوران جسم میں پانی کی کمی بہت تیزی سے ہو سکتی ہے، جس سے چکر آنا، کمزوری، بے ہوشی اور ہیٹ اسٹروک جیسے خطرناک مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹروں نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں، دھوپ میں نکلتے وقت سر کو ڈھانپیں اور کیفین والے مشروبات سے پرہیز کریں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات
ماہرین ماحولیات کے مطابق پاکستان میں شدید گرمی کی لہروں میں اضافہ موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران سندھ اور جنوبی پنجاب میں گرمی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ مستقبل میں مزید شدید ہیٹ ویوز کا سبب بن سکتا ہے، جس کے باعث شہری انفراسٹرکچر، صحت کے نظام اور پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات کی ہدایت
Provincial Disaster Management Authority Sindh نے ضلعی انتظامیہ، اسپتالوں اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔
حکام کے مطابق اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک وارڈز فعال رکھنے، ایمبولینس سروس تیار رکھنے اور عوامی مقامات پر پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
سندھ میں جاری ہیٹ ویو الرٹ نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ مختلف علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین اور حکام کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے شدید گرمی کے اثرات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موسم کی صورتحال پر نظر رکھیں اور صحت کا خاص خیال رکھیں۔








