ایران امریکا جوہری معاہدہ پر اہم پیش رفت، تہران کا واضح مؤقف — تمام پابندیاں ختم کرنا ہوں گی
ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے مفاہمت پر آمادہ ہے، تاہم اس کے لیے امریکہ کو ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے اور عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مجید تخت روانچی نے واضح کیا کہ اگر امریکہ کسی نئے یا بحال شدہ معاہدے کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے عملی اقدامات کے ذریعے اپنے مؤقف کو ثابت کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق صرف بیانات یا سفارتی اعلانات کافی نہیں ہوں گے، بلکہ پابندیوں کے خاتمے جیسے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں تاکہ اعتماد کی فضا بحال ہو سکے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ افزودہ یورینیم کو منجمد کرنے پر آمادگی ایران کے مثبت اور تعمیری رویے کا مظہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، اور اگر اس حوالے سے بین الاقوامی خدشات کو دور کرنے کے لیے تکنیکی اقدامات درکار ہوں تو ایران ان پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کے معاملے پر بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔ ان کے بقول اس نوعیت کے حساس معاملات پر کسی بھی پیش رفت کا انحصار جامع اور متوازن معاہدے پر ہوگا، جس میں ایران کے مفادات اور خودمختاری کو مدنظر رکھا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے، یعنی جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کی بحالی کی کوششوں کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پایا تھا، تاہم بعد ازاں امریکہ کی علیحدگی اور پابندیوں کی بحالی کے بعد اس میں تعطل پیدا ہو گیا تھا۔
مجید تخت روانچی نے زور دیا کہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ ڈیل صرف ایران کے ایٹمی پروگرام تک محدود ہوگی اور اس میں دیگر علاقائی یا دفاعی معاملات شامل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق ایران اپنی دفاعی پالیسی یا خطے میں اپنے کردار پر کسی قسم کی بات چیت کو جوہری مذاکرات کا حصہ بنانے کا خواہاں نہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے افزودہ یورینیم منجمد کرنے کی پیشکش ایک لچکدار مؤقف کی علامت ہو سکتی ہے، تاہم اصل پیش رفت کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ آیا امریکہ پابندیوں میں نرمی یا خاتمے کے لیے تیار ہوتا ہے یا نہیں۔
موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ سفارتی رابطے جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر فریقین اعتماد سازی کے اقدامات پر متفق ہو جاتے ہیں تو جوہری معاہدے کی بحالی یا کسی نئے فریم ورک پر پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی اہم اثرات مرتب کرے گی۔


One Response