مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی، ایران اور امریکا کے ایٹمی مذاکرات پر اتفاق، پاکستان کی شرکت کی تصدیق
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ پر منڈلاتے جنگ کے بادل چھٹنے لگے ہیں، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کے آغاز پر اتفاق ہو گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ اہم بات چیت جمعہ کے روز ترکی کے شہر استنبول میں ہوگی، جس میں پاکستان بھی باضابطہ طور پر شریک ہوگا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کو ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی دعوت موصول ہو چکی ہے، جسے قبول کر لیا گیا ہے۔ پاکستان ان مذاکرات میں ایک ذمہ دار اور تعمیری کردار ادا کرے گا، تاکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے ایٹمی مذاکرات میں سیکیورٹی، خطے کی مجموعی صورتحال اور ایٹمی پروگرام سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔ پاکستان کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی برادری پاکستان کو ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد سفارتی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان سخت بیانات اور جنگی دھمکیوں کے باعث مشرق وسطیٰ میں شدید کشیدگی پائی جاتی تھی، تاہم اب دونوں ممالک نے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ایرانی صدر نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوست ممالک کے مشورے پر امریکا کی مذاکراتی پیشکش پر غور کیا گیا، اور فیصلہ کیا گیا کہ بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے وزیر خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے، تاہم ایران کے قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عزت کے ساتھ بات کی جائے گی تو ایران بھی مثبت جواب دے گا، لیکن کسی دباؤ یا دھمکی کے آگے سر نہیں جھکایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سازشیں ناکام ہونے کے بعد امریکا دوبارہ مذاکرات کی میز پر آیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر نے بھی ایران اور امریکا کے ایٹمی مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ تمام فریقین کے لیے بہتر ہوگا، تاہم ناکامی کی صورت میں نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے ایٹمی مذاکرات کا آغاز نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ پاکستان کی شرکت کو ایک مثبت سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو خطے میں توازن اور مکالمے کو فروغ دے سکتی ہے۔