ایران-امریکا کشیدگی: سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا سخت انتباہ
تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکا کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر کسی بھی قسم کا فوجی حملہ کیا تو اس کے نتائج صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم نہ تو جنگ کی خواہاں ہے اور نہ ہی کسی ملک پر جارحیت کا آغاز کرنا چاہتی ہے، تاہم اگر ایران کو ہدف بنایا گیا یا ایرانی عوام کو ہراساں کیا گیا تو جواب ایسا ہوگا جسے دنیا یاد رکھے گی۔
آیت اللہ خامنہ ای کا یہ دوٹوک بیان ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت اور دھمکی آمیز بیانات سامنے آئے ہیں، جن میں فوجی طاقت کے استعمال کے اشارے بھی شامل ہیں۔ ان بیانات نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے ایک خطاب میں امریکی صدر کے بیانات کا براہ راست جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ بار بار جنگی جہازوں اور فوجی طاقت کی نمائش کا ذکر کرتے ہیں، لیکن ایرانی قوم ایسی دھمکیوں سے مرعوب ہونے والی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران ایک باوقار، خوددار اور مزاحم قوم ہے جس نے ماضی میں بھی بڑے خطرات کا سامنا کیا اور ہر بار دشمن کو مایوس کیا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا، ’’ٹرمپ مسلسل کہتے ہیں کہ وہ جنگی جہاز لے آئے ہیں، بحری بیڑے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ لیکن ایرانی قوم ان باتوں سے خوفزدہ نہیں ہوگی۔ نہ ہی ایرانی عوام ایسی دھمکیوں کے سامنے جھکیں گے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ دھمکیوں کی زبان کسی بھی صورت میں مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے حالات مزید بگڑتے ہیں۔
سپریم لیڈر نے واضح کیا کہ ایران کی دفاعی پالیسی مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہے۔ ان کے مطابق ایران نہ تو کسی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور نہ ہی جنگ کو ہوا دینا چاہتا ہے، لیکن اگر کسی نے ایران پر حملہ کیا یا اس کی خودمختاری کو چیلنج کیا تو جواب انتہائی سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم جنگ شروع نہیں کرتے، لیکن اگر کوئی ہماری قوم پر حملہ کرے گا یا ہمیں ہراساں کرے گا تو ایرانی قوم اسے ایسا جواب دے گی جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا۔‘‘
آیت اللہ خامنہ ای کے بیان کو ایرانی عوام میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ایران میں اسے قومی خودداری اور مزاحمتی پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کا یہ بیان نہ صرف امریکا بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ ایران دباؤ، پابندیوں اور فوجی دھمکیوں کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
دوسری جانب امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جسے خطے میں طاقت کا مظاہرہ اور ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق اس وقت مشرق وسطیٰ کے حساس پانیوں میں امریکا کے چھ ڈسٹرائر، ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور تین لیٹورل کامبیٹ شپ تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ فضائی نگرانی اور دیگر عسکری سرگرمیوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی بحری موجودگی میں اضافے کا مقصد ایران کو ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے خبردار کرنا اور خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق ایسی فوجی نقل و حرکت کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ پر پڑ سکتے ہیں۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست تصادم ہوتا ہے تو اس کے اثرات عراق، شام، خلیجی ممالک اور حتیٰ کہ عالمی توانائی منڈیوں تک پھیل سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے، کسی بھی ممکنہ تنازع کا اہم مرکز بن سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔
ایران پہلے ہی سخت امریکی پابندیوں کی زد میں ہے، جنہوں نے ایرانی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس کے باوجود ایرانی قیادت بارہا یہ مؤقف دہرا چکی ہے کہ دباؤ اور پابندیاں ایران کو اس کے اصولی مؤقف سے ہٹا نہیں سکتیں۔ آیت اللہ خامنہ ای کے حالیہ بیان کو اسی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی برادری، خصوصاً یورپی ممالک اور اقوام متحدہ، اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کئی ممالک نے فریقین سے تحمل، مذاکرات اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک نئی اور تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے۔ تاہم موجودہ بیانات اور فوجی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے صورتحال بدستور کشیدہ نظر آتی ہے۔
مجموعی طور پر آیت اللہ خامنہ ای کا یہ بیان نہ صرف ایک وارننگ ہے بلکہ ایران کی اسٹریٹیجک سوچ اور قومی سلامتی کے نظریے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ایران کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا، اور اگر اس کی خودمختاری یا سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو اس کا ردعمل محدود نہیں بلکہ ہمہ گیر ہو سکتا ہے۔
اب عالمی برادری کی نظریں واشنگٹن اور تہران کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔ آیا دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا بیانات اور طاقت کے مظاہرے خطے کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیتے ہیں، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔


One Response