ایران جنگی تیاریوں میں مصروف، علی خامنہ ای کا جانشینی منصوبہ تیار، اختیارات علی لاریجانی کو منتقل

ایران میں ممکنہ جنگ کے پیش نظر اعلیٰ سطحی اختیارات علی لاریجانی کو سونپ دیے گئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایران جنگی تیاریوں میں مصروف، اختیارات علی لاریجانی کو منتقل، علی خامنہ ای نے چار سطحوں پر مشتمل ایک واضح جانشینی منصوبہ بھی تیار

تہران: امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران ممکنہ جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیزی سے تیاریوں میں مصروف ہے، جبکہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اہم اختیارات علی لاریجانی کو سونپ دیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران میں نیشنل سکیورٹی سے متعلق اہم فیصلوں میں علی لاریجانی کا کردار مزید مضبوط ہو گیا ہے اور انہیں ملک کی اعلیٰ سطحی پالیسی سازی میں مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔

مذاکرات اور پالیسی سازی

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکا کے ساتھ جاری حساس مذاکرات کی نگرانی بھی علی لاریجانی کر رہے ہیں، جبکہ سپریم لیڈر کو ان پر مکمل اعتماد حاصل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی قیادت نے ممکنہ جنگی حالات کے پیش نظر فیصلہ سازی کا عمل محدود اور مؤثر بنانے کے لیے اختیارات چند اہم شخصیات تک محدود کر دیے ہیں۔

جانشینی اور ہنگامی منصوبہ بندی

رپورٹ کے مطابق علی خامنہ ای نے چار سطحوں پر مشتمل ایک واضح جانشینی منصوبہ بھی تیار کر لیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں نظامِ حکومت متاثر نہ ہو۔

ممکنہ جنگ کی صورت میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو مسلح افواج کی کمان سونپی جا سکتی ہے، جبکہ اگر اعلیٰ قیادت کو نقصان پہنچتا ہے تو عبوری قیادت میں علی لاریجانی سرفہرست ہوں گے۔

اس کے علاوہ سابق صدر حسن روحانی کا نام بھی عبوری انتظام کے لیے زیر غور بتایا جا رہا ہے۔

عسکری تیاریوں میں تیزی

یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ طیارہ بردار بحری جہاز بحیرہ روم میں داخل
امریکی بحریہ کا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ مشرقِ وسطیٰ کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ خلیج فارس کے ساحلی علاقوں میں میزائل سسٹمز نصب کر دیے گئے ہیں، جو ایران کی دفاعی تیاریوں کا واضح ثبوت ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے نہ صرف سیاسی بلکہ عسکری سطح پر بھی مکمل تیاری کر رہا ہے۔

داخلی ہم آہنگی اور حکومتی مؤقف

ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی بظاہر اختیارات علی لاریجانی کو منتقل کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، جس سے حکومتی سطح پر یکسوئی اور ہم آہنگی کا تاثر ملتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے کی کوشش کی، تاہم اس کے لیے بھی علی لاریجانی سے اجازت طلب کی گئی، جو ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔

خطے کی صورتحال پر اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس نوعیت کی تیاریوں سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

عالمی سطح پر اس پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سیکیورٹی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

نتیجہ

ایران کی جانب سے اختیارات کی منتقلی، عسکری تیاریوں میں تیزی اور واضح جانشینی منصوبہ بندی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہو رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ پیش رفت خطے کی سیاست اور عالمی طاقتوں کے تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]