ماسکو میں ایس سی او اجلاس کے بعد اسحٰق ڈار کا بیلجیئم کا دورہ، یورپی یونین کے ساتھ ساتواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ شیڈول،یہ دورہ پاکستان اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل
نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ حکومت کے اجلاس میں شرکت کے بعد اب اسحٰق ڈار کا بیلجیئم کا دورہ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ 3 روزہ دورے کے دوران پاکستان اور یورپی یونین (ای یو) کے درمیان ساتویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ برسلز کا یہ دورہ پاکستان اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ماسکو میں ہونے والے ایس سی او اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کے بعد 19 سے 21 نومبر تک وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار کا بیلجیئم کا دورہ کریں گے۔ یہ ڈائیلاگ یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی کاجا کالاس کی دعوت پر منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں دونوں فریق متعدد شعبوں میں دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کا جائزہ لیں گے۔
2019 کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کا جامع جائزہ
دفترِ خارجہ کے مطابق اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں 2019 کے پاکستان–یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے تحت ہونے والی پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس پلان میں سیاسی تعلقات، معیشت، تجارت، سیکیورٹی، ماحولیات، انسانی حقوق، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی سمیت وسیع شعبے شامل ہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق یہ ڈائیلاگ پاکستان کے یورپی یونین کے ساتھ مستقل اور پائیدار تعلقات کے عزم کی واضح علامت ہے، جس کا مقصد ایک جامع، متوازن اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
ای یو انڈو–پیسیفک وزارتی فورم میں بھی شرکت
اسحٰق ڈار کا بیلجیئم کا دورہ کے دوران چوتھے ای یو انڈو–پیسیفک وزارتی فورم میں بھی پاکستانی وفد کی نمائندگی کریں گے۔ یہ فورم 2 روز تک جاری رہے گا اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس اس کی صدارت کریں گی۔
اس فورم میں علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون، تجارت، بحری استحکام، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اور موسمیاتی تعاون جیسے اہم مسائل زیر غور آئیں گے۔ پاکستان کی شرکت اس خطے میں اس کی جغرافیائی اہمیت اور یورپی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون کو مزید تقویت دے گی۔
یورپی یونین رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی طے
دفترِ خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار کا بیلجیئم کا دورہ کے دوران متعدد اہم دوطرفہ اجلاس بھی طے ہیں، جن میں یورپی یونین کے سینئر حکام اور برسلز میں موجود اہم اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں شامل ہیں۔
ان ملاقاتوں کا مقصد دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، برآمدات، تجارت، جی ایس پی پلس اسٹیٹس، سرمایہ کاری، ہنرمند افرادی قوت، اور سیاسی مشاورت کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
بیان کے مطابق اسحٰق ڈار کا دورہ پاکستان–یورپی یونین تعلقات کو نئی سمت دے گا اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کو وسعت دینے میں مددگار ہوگا۔
ماسکو میں اہم ملاقاتیں — روس، چین، قطر اور وسطی ایشیائی ممالک
ماسکو میں ہونے والے ایس سی او اجلاس کے دوران اسحٰق ڈار کی کئی اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں، جن میں دوطرفہ تعاون اور علاقائی اتحاد کے موضوعات پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے ملاقات
دفترِ خارجہ نے بتایا کہ اسحٰق ڈار نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور ادارہ جاتی میکنزم کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
ڈار نے اجلاس کی کامیاب میزبانی پر لاروف کو مبارکباد بھی دی۔
قطری وزیراعظم سے غیر رسمی گفتگو
دفترِ خارجہ کے مطابق ڈار نے قطر کے وزیراعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے غیر رسمی گفتگو بھی کی، جس میں باہمی تعلقات اور علاقائی تعاون کی ترجیحات پر تبادلہ خیال ہوا۔
چینی وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات
اسحٰق ڈار نے چین کے وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات کی اور ایس سی او رکن ممالک کے درمیان کاروبار، تجارت اور ترقیاتی تعاون کو بڑھانے پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان–چین تعلقات کی اہمیت پر بھی بات چیت کی۔

وسطی ایشیائی رہنماؤں سے مذاکرات
ڈار نے کرغیزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں:
کرغیزستان کے چیئرمین عدیلبیک کاسیمالیف
تاجکستان کے وزیراعظم کوہیر رسولزودا
ازبکستان کے وزیراعظم عبداللہ عریپوف
ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، خطے میں کنیکٹیویٹی، توانائی اور سرمایہ کاری کے منصوبوں پر بات چیت ہوئی۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar has departed Russia after leading Pakistan’s delegation at the SCO Council of Heads of Government meeting held from 17–18 November 2025.
He expressed gratitude to the host government for its warm hospitality and… pic.twitter.com/3fW8ElJv1j
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) November 19, 2025
One Response