وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے سفیر خضر فرہادوف کی خدمات کو سراہا

وزیراعظم سے آذربائیجان کے سفیر کی الوداعی ملاقات

وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے سفیر خضر فرہادوف کی الوداعی ملاقات میں ان کی سفارتی خدمات، دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور براہ راست پروازوں کے آغاز میں کردار کو سراہتے ہوئے مستقبل میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

کویت کے وزیر خارجہ آج دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے

کویت کے وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ، اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی ملاقات

کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح آج دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں، جہاں پاکستان اور کویت کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون، علاقائی سلامتی اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اہم مذاکرات ہوں گے۔

ماسکو میں ایس سی او اجلاس کے بعد اسحٰق ڈار کا بیلجیئم کا دورہ ، یورپی یونین کے ساتھ ساتواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ شیڈول

اسحٰق ڈار کا بیلجیئم کا دورہ,پاکستان یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں شرکت

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے بعد بیلجیئم روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ 19 سے 21 نومبر تک یورپی یونین کے ساتھ ساتویں پاکستان–ای یو اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق یہ ڈائیلاگ 2019 کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے تحت دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کا جائزہ لے گا۔ اسحٰق ڈار برسلز میں ای یو انڈو–پیسیفک وزارتی فورم میں بھی شرکت کریں گے اور یورپی یونین کے متعدد سینئر حکام سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ دورے سے تجارت، جی ایس پی پلس، سرمایہ کاری اور سیاسی مشاورت کے نظام کو مضبوط بنانے میں اہم پیشرفت متوقع ہے۔ اس سے قبل ڈار نے ماسکو میں ایس سی او اجلاس کے دوران روس، چین، قطر، تاجکستان، ازبکستان اور کرغیزستان کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔

بھارت افغانستان میں سفارتخانہ دوبارہ کھولنے جا رہا ہے،بھارتی وزیر خارجہ کی افغان وزیرخارجہ سے ملاقات

بھارت افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے جا رہا ہے، بھارتی وزیر خارجہ کی افغان وزیرخارجہ سے ملاقات

بھارت نے تین سال بعد افغانستان میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اعلان کیا کہ کابل میں موجود "تکنیکی مشن” کو اب سفارتخانے کی سطح پر اپ گریڈ کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ طالبان کے ساتھ تعلقات میں نئی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے بعد جنوبی ایشیا میں سفارتی توازن میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔