نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی چینی ہم منصب وانگ ژی سے ٹیلیفونک گفتگو، ایران امریکا مفاہمتی عمل کا خیرمقدم
اسحاق ڈار چینی وزیر خارجہ رابطہ خطے کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور ایران امریکا مفاہمتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران امریکا مفاہمتی عمل کا خیرمقدم
دونوں رہنماؤں نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی مفاہمتی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور اسے خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔
گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ مفاہمتی عمل کا مؤثر نفاذ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر امن اور اقتصادی استحکام کے لیے بھی اہم ہے۔
پاکستان کے سفارتی کردار کی تعریف
چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ وانگ ژی نے عالمی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کی خدمات کا بھی اعتراف کیا۔
چین کی حمایت پر پاکستان کا اظہارِ تشکر
اس موقع پر اسحاق ڈار نے ایران امریکا مذاکرات اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے چین کی مسلسل حمایت کو سراہا۔
انہوں نے شی جن پنگ کی جانب سے پیش کیے گئے چار نکاتی امن منصوبے اور پاک چین پانچ نکاتی اقدام کو علاقائی استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ چین نے ہمیشہ امن، ترقی اور مذاکرات کی حمایت کی ہے، جو موجودہ حالات میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر زور
دونوں وزرائے خارجہ نے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور معاشی استحکام کے تناظر میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت کے مفاد میں سمندری تجارتی راستوں کا محفوظ اور فعال رہنا ضروری ہے، کیونکہ ان راستوں سے توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کا خیرمقدم
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے شہباز شریف کے حالیہ دورۂ چین کو کامیاب قرار دیتے ہوئے اس کے مثبت نتائج کا خیرمقدم کیا۔
دونوں ممالک نے اس دورے کے دوران طے پانے والے فیصلوں اور منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سی پیک فیز ٹو پر پیش رفت
اسحاق ڈار نے خصوصی طور پر سی پیک فیز ٹو کے تحت تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک مشترکہ ترقی کے اہداف حاصل کر سکیں۔
پاکستان چین تعلقات مزید مضبوط
گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہر سطح پر رابطے اور مشاورت جاری رکھی جائے گی۔
دونوں ممالک نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر قریبی تعاون بڑھانے اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
خطے میں امن کے لیے مشترکہ کوششیں
پاکستان اور چین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام زیر التوا تنازعات کو بات چیت، سفارت کاری اور پرامن ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔
رہنماؤں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مسلسل رابطے، اعتماد سازی اور تعاون ناگزیر ہیں۔
اسحاق ڈار چینی وزیر خارجہ رابطہ پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط سفارتی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ایران امریکا مفاہمتی عمل، علاقائی استحکام، سی پیک فیز ٹو، اقتصادی تعاون اور عالمی امن کے فروغ پر اتفاق کرتے ہوئے مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
READ MORE FAQS
سوال 1: اسحاق ڈار اور وانگ ژی کے درمیان کیا گفتگو ہوئی؟
جواب: دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، ایران امریکا مفاہمتی عمل اور سی پیک پر تبادلہ خیال کیا۔
سوال 2: چین نے پاکستان کے کس کردار کو سراہا؟
جواب: چین نے ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
سوال 3: ایران امریکا مفاہمت کے بارے میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟
جواب: دونوں ممالک نے اس پیش رفت کو خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم قدم قرار دیا۔
سوال 4: آبنائے ہرمز کے بارے میں کیا بات ہوئی؟
جواب: دونوں رہنماؤں نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔








