نواز شریف کی ن لیگ کو محسن نقوی کا بیان نظرانداز کرنے کی ہدایت، قومی اتحاد پر زور

نواز شریف مسلم لیگ ن کے رہنماؤں سے ملاقات کے دوران
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

نواز شریف کی ن لیگ کو محسن نقوی کا بیان نظرانداز کرنے کی ہدایت، قومی اتحاد پر زور

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان پر کسی قسم کا عوامی ردعمل نہ دیا جائے اور موجودہ قومی حالات میں تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے پارٹی کی سینئر قیادت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی، سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔

آزاد کشمیر الیکشن 2026 کے دوسرے مرحلے کے نتائج کے بعد جشن مناتے کارکن
آزاد کشمیر انتخابات 2026 کے دوسرے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے اکثریتی نشستیں حاصل کرلیں۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی بعض سینئر شخصیات نے محسن نقوی کے حالیہ بیان، جس میں انہوں نے موجودہ نظام پر تنقید کی تھی، پر اپنے تحفظات نواز شریف کے سامنے رکھے۔ تاہم نواز شریف نے واضح کیا کہ ایسے معاملات پر ردعمل دینے کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

انہوں نے پارٹی رہنماؤں پر زور دیا کہ کسی بھی ایسے بیان یا طرزِ عمل سے گریز کیا جائے جس سے وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان اختلافات یا تناؤ کا تاثر پیدا ہو۔

رپورٹ کے مطابق نواز شریف کا مؤقف تھا کہ موجودہ حالات میں سیاسی استحکام، قومی یکجہتی اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون ملک کے مفاد میں ناگزیر ہے، اس لیے تمام سیاسی رہنماؤں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ خطاب میں کہا تھا کہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور ملک کے مسائل کے حل کے لیے انتظامی اصلاحات اور نئے انتظامی یونٹس پر قومی سطح پر اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔ ان کے اس بیان پر مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے متنوع ردعمل سامنے آیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت نے اس معاملے پر محتاط حکمتِ عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون اور اعتماد کی فضا برقرار رہے۔

READ MORE FAQS”

سوال 1: نواز شریف نے پارٹی کو کیا ہدایت دی؟

جواب: نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو محسن نقوی کے بیان پر عوامی ردعمل دینے کے بجائے اسے نظرانداز کرنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت دی۔

سوال 2: نواز شریف نے یہ ہدایت کیوں دی؟

جواب: ان کے مطابق موجودہ معاشی، سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی برقرار رکھنا قومی مفاد کا تقاضا ہے۔

سوال 3: محسن نقوی کے بیان پر ن لیگ کا ردعمل کیا تھا؟

جواب: ذرائع کے مطابق ن لیگ کی سینئر قیادت نے محسن نقوی کے بیان پر اپنے تحفظات نواز شریف کے سامنے رکھے، جس کے بعد انہوں نے تحمل کا مشورہ دیا۔

سوال 4: نواز شریف نے کس بات پر زور دیا؟

جواب: نواز شریف نے کہا کہ ایسی کسی بھی صورتحال سے گریز کیا جائے جس سے وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان اختلافات کا تاثر پیدا ہو۔

متعلقہ خبریں