وفاقی وزیر سردار یوسف اور سینیٹر طلحہ محمود کا صوبہ ہزارہ کے قیام کا مطالبہ، نئی انتظامی اکائیوں کو وقت کی ضرورت قرار
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر طلحہ محمود نے صوبہ ہزارہ کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ صوبہ ہزارہ کا مطالبہ کسی ایک جماعت نہیں بلکہ پورے خطے کے عوام کی مشترکہ آواز ہے۔
اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کے قیام کی تحریک کا آغاز 2010 میں کیا گیا تھا، جس دوران سات نوجوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک کا بنیادی مطالبہ یہی تھا کہ خیبرپختونخوا میں الگ صوبہ ہزارہ قائم کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر انتظامی سہولیات اور مؤثر طرز حکمرانی میسر آسکے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ کے قیام پر مختلف سیاسی جماعتوں میں وسیع اتفاقِ رائے موجود ہے اور یہ مطالبہ کسی ایک جماعت تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق جب ہزارہ صوبے کی تحریک اٹھی تو ملک کے دیگر علاقوں میں بھی نئے صوبوں کے قیام کے مطالبات نے زور پکڑا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی صوبہ ہزارہ کے حق میں تین مرتبہ آئینی قراردادیں منظور کر چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ قراردادیں 2014، 2018 اور 2020 میں منظور ہوئیں، جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی صوبہ ہزارہ کے قیام سے متعلق بل پیش کیے جا چکے ہیں۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ مذکورہ بل پارلیمنٹ کی قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹیوں کو بھجوائے جا چکے ہیں اور اب ضروری ہے کہ اس معاملے کو آئینی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ بہتر طرز حکمرانی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔
اس موقع پر سینیٹر طلحہ محمود نے بھی صوبہ کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مطالبہ ہزارہ کے عوام کی دیرینہ خواہش ہے اور اسے آئینی و جمہوری طریقے سے پورا کیا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی ہزارہ کا دورہ کر کے عوامی اجتماعات میں صوبہ ہزارہ کے قیام کی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر طلحہ محمود اور سابق وفاقی وزیر مرتضیٰ جاوید عباسی نے بھی پارلیمنٹ کے اندر صوبہ کے مقدمے کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ میں اتفاقِ رائے پیدا کر کے صوبہ ہزارہ کے قیام کی آئینی راہ ہموار کی جا سکتی ہے، تاکہ خطے کے عوام کی دیرینہ خواہش پوری ہو اور انتظامی نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
محسن نقوی کو مکمل سپورٹ کرتا ہوں میں سمجھتا ہوں جناب محترم محسن نقوی نے جو بات کی ہے وہ میرٹ پہ کی ہے ! سینیٹر طلحہ و سردار یوسف ن لیگ ۔۔ pic.twitter.com/oSNjv0eoEQ
— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) August 3, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: صوبہ ہزارہ کا مطالبہ کس نے کیا؟
جواب: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف اور سینیٹر طلحہ محمود نے مشترکہ پریس کانفرنس میں صوبہ ہزارہ کے قیام کا مطالبہ دہرایا۔
سوال 2: خیبرپختونخوا اسمبلی نے صوبہ ہزارہ پر کیا فیصلہ کیا؟
جواب: خیبرپختونخوا اسمبلی 2014، 2018 اور 2020 میں تین مرتبہ صوبہ ہزارہ کے حق میں قراردادیں منظور کر چکی ہے۔
سوال 3: صوبہ ہزارہ کے حامیوں کا مؤقف کیا ہے؟
جواب: ان کا کہنا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس بہتر گورننس، متوازن ترقی اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے ضروری ہیں۔
سوال 4: کیا صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے پارلیمنٹ میں قانون سازی ہوئی ہے؟
جواب: قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس حوالے سے بل پیش کیے جا چکے ہیں، جو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں میں زیر غور ہیں۔






