سابق افغان رکن پارلیمنٹ بکتاش سیاوش کا دعویٰ، طالبان رجیم کا جلد خاتمہ ہوگا
طالبان رجیم ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سابق افغان رکن پارلیمنٹ بکتاش سیاوش نے ایک انٹرویو میں طالبان حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ موجودہ طالبان رجیم زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکے گا اور اس کے خاتمے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔
افغانستان انٹرنیشنل کو دیے گئے انٹرویو میں بکتاش سیاوش نے کہا کہ طالبان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور ان کی پالیسیاں اسلام کی حقیقی تعلیمات کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ ان کے مطابق طالبان کے اقدامات دنیا بھر میں اسلام کے بارے میں منفی تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
سابق رکن پارلیمنٹ نے الزام عائد کیا کہ طالبان خواتین کے حقوق، تعلیم، فنونِ لطیفہ اور بنیادی انسانی آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کر رہے ہیں، جس سے افغانستان کا معاشرہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی پالیسیاں نہ صرف افغان عوام بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
بکتاش سیاوش نے مزید کہا کہ مختلف عالمی ماہرین کے مطابق طالبان کی سخت گیر حکمرانی نے ان کی پالیسیوں کی حقیقت دنیا کے سامنے واضح کر دی ہے۔ ان کے بقول افغانستان کے اندر عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور متعدد مزاحمتی تحریکیں طالبان حکومت کے خلاف سرگرم ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں جاری مسلح مزاحمتی کارروائیاں اس بات کا اظہار ہیں کہ ملک کے مختلف حلقے طالبان حکومت سے مطمئن نہیں۔ ان کے مطابق افغان عوام ایک ایسے سیاسی نظام کے خواہاں ہیں جس میں تمام طبقات کو نمائندگی، بنیادی حقوق اور تعلیم و ترقی کے مساوی مواقع میسر ہوں۔
بکتاش سیاوش نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کے مستقبل کے لیے قومی اتحاد، سیاسی مکالمہ اور آئینی نظام کی بحالی ضروری ہے۔ ان کے مطابق پائیدار استحکام اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام افغان طبقات کو سیاسی عمل میں شامل کیا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کی موجودہ سیاسی، معاشی اور سکیورٹی صورتحال آئندہ مہینوں میں خطے کی مجموعی استحکام پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔ اسی لیے طالبان حکومت، مزاحمتی گروہوں اور عالمی برادری کے درمیان ہونے والی پیش رفت پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
READ MORE FAQS
1. بکتاش سیاوش کون ہیں؟
بکتاش سیاوش افغانستان کے سابق رکن پارلیمنٹ ہیں جنہوں نے طالبان حکومت پر تنقید کرتے ہوئے حالیہ بیان دیا ہے۔
2. بکتاش سیاوش نے طالبان کے بارے میں کیا کہا؟
انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور ان کی پالیسیاں اسلام کی حقیقی تعلیمات کی نمائندگی نہیں کرتیں۔
3. انہوں نے طالبان رجیم کے بارے میں کیا پیشگوئی کی؟
انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان رجیم کا خاتمہ جلد ہو سکتا ہے۔
4. کیا طالبان حکومت نے اس بیان پر ردعمل دیا ہے؟
اس خبر کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔








