عطا تارڑ کا شرجیل میمن کے الزامات پر ردعمل، آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کا دفاع
آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتائج کے بعد سیاسی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی مخالفین کو ہضم نہیں ہو رہی۔
اسلام آباد میں اپنے ردعمل میں عطا تارڑ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے دوسرے مرحلے کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری حاصل ہوئی ہے اور جماعت سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ ان کے مطابق عوام نے اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے ترقی، کارکردگی اور عوامی خدمت کو ترجیح دی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ انتخابات میں عوام نے بھرپور انداز میں حصہ لیا، جس سے جمہوری عمل مزید مضبوط ہوا۔ انہوں نے اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی پر مبارکباد دینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو برداشت، تحمل اور جمہوری روایات کو فروغ دینا چاہیے۔
عطا تارڑ نے شرجیل میمن کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی دھاندلی یا بے ضابطگیوں کے الزامات لگانے والوں کو اپنے دعوؤں کے حق میں شواہد بھی پیش کرنے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف الزامات عائد کرنے سے سیاسی حقائق تبدیل نہیں ہوتے اور اگر کسی کے پاس ثبوت موجود ہیں تو انہیں متعلقہ فورمز پر پیش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں انتخابی مہم کے دوران تمام سیاسی جماعتوں کو سرگرمیوں کا مکمل موقع ملا اور ووٹرز نے آزادانہ طور پر اپنا فیصلہ سنایا۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد اور پارٹی کی کارکردگی کا اظہار ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ہمیشہ آزاد کشمیر کی ترقی، انفراسٹرکچر، عوامی فلاح اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ووٹرز نے ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا۔
عطا تارڑ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیاست میں اختلاف رائے اور تنقید جمہوری عمل کا حصہ ہیں، تاہم سیاسی بیانات ذمہ داری کے ساتھ دیے جانے چاہییں۔ ان کے مطابق انتخابی نتائج کو تسلیم کرنا اور جمہوری فیصلوں کا احترام کرنا سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے اپنا فیصلہ ووٹ کے ذریعے دے دیا ہے، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی نتائج کا احترام کرتے ہوئے مثبت سیاسی رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
READ MORE FAQS
1. عطا تارڑ نے شرجیل میمن کے الزامات پر کیا کہا؟
انہوں نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کے پاس شواہد ہیں تو وہ سامنے لائے جائیں۔
2. عطا تارڑ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کی وجہ کیا ہے؟
ان کے مطابق عوام نے ترقی، کارکردگی اور عوامی خدمت کی بنیاد پر مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا۔
3. آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے بارے میں عطا تارڑ کا کیا مؤقف ہے؟
انہوں نے کہا کہ جماعت کو سادہ اکثریت حاصل ہوئی اور یہ عوام کے اعتماد کا واضح اظہار ہے۔
4. عطا تارڑ نے سیاسی جماعتوں کو کیا پیغام دیا؟
انہوں نے برداشت، تحمل، جمہوری روایات اور انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے پر زور دیا۔








