آزاد کشمیر بحران پر بڑا دعویٰ، عطا اللہ تارڑ کا بھارتی سوشل میڈیا نیٹ ورک سے متعلق پریس کانفرنس میں انکشاف
آزاد کشمیر بحران سے متعلق وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا کہ سیکیورٹی اداروں نے ایسی تحقیقات کی ہیں جن میں مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی "را” سے منسلک سوشل میڈیا سرگرمیوں اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا نیٹ ورک کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت ان معاملات کو قومی سلامتی اور معلوماتی تحفظ کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن سروسز سے وابستہ تھا۔ ان کے مطابق تحقیقات میں اس شخص کے مبینہ غیر ملکی روابط، واٹس ایپ پیغامات اور مالی لین دین سے متعلق مواد کا جائزہ لیا گیا۔
عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ تفتیش کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر مخصوص نوعیت کے مواد کو فروغ دینے کے لیے بیرون ملک سے ادائیگیاں کی جا رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق بعض ڈیجیٹل مہمات کا تعلق کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے متعلق مواد سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی گروہ واقعی عوامی حمایت رکھتا ہے تو اسے جمہوری عمل میں حصہ لینا چاہیے اور انتخابات کے ذریعے اپنی مقبولیت ثابت کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی سرگرمیوں، جلسوں اور عوامی اجتماعات نے یہ ظاہر کیا کہ عوام نے جمہوری عمل پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق حکومت اسے عوامی اعتماد کی علامت سمجھتی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ غلط معلومات، جھوٹی خبروں اور گمراہ کن مہمات کا بروقت تدارک کرے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور تحقیقاتی صلاحیتوں کے ذریعے مستقبل میں بھی ایسے معاملات کی نگرانی جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر معلومات کی درستگی انتہائی اہم ہے اور شہریوں کو چاہیے کہ کسی بھی غیر مصدقہ خبر یا دعوے کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا آج کے دور میں معلومات کی تیز ترین ترسیل کا ذریعہ ہے، اس لیے اس کا ذمہ دارانہ استعمال ضروری ہے۔
حکومت کے مطابق پاکستان کے عالمی تشخص کے تحفظ، قومی سلامتی اور ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ منظم پروپیگنڈا کی روک تھام کے لیے متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ دوسری جانب ایسے الزامات اور دعوؤں کی آزادانہ تصدیق یا متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں صورتحال مزید واضح ہو سکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانونی تقاضوں کے مطابق مزید معلومات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔ ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں شواہد، عدالتی کارروائی اور سرکاری تحقیقات کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ درست اور متوازن معلومات عوام تک پہنچ سکیں۔






