وسیم اکرم پاکستان کی کوچنگ کیوں نہیں کرنا چاہتے؟ وجہ سامنے آگئی

وسیم اکرم پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وسیم اکرم نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی مستقل کوچنگ سے ایک بار پھر انکار، کیوں نہیں کرنا چاہتے؟ وجہ سامنے آگئی

اسلام آباد، 10 ستمبر 2026: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور لیجنڈری فاسٹ باؤلر وسیم اکرم نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ قومی کرکٹ ٹیم کی مستقل کوچنگ کی ذمہ داری سنبھالنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ ایک انتہائی دباؤ والا کام ہے اور شکست کی صورت میں اکثر کوچ کو ذمہ دار ٹھہرا دیا جاتا ہے، جبکہ میدان میں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کی ذمہ داری کا معاملہ اتنی شدت سے سامنے نہیں آتا۔

’میں اس قسم کا دباؤ نہیں لینا چاہتا‘

وسیم اکرم نے کوچنگ سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب 60 برس کے ہوچکے ہیں اور اس مرحلے پر ایسی تنقید اور بے عزتی برداشت نہیں کرسکتے۔

ان کے مطابق سوشل میڈیا اور پریس کی جانب سے ہونے والی تنقید نے قومی ٹیم کی کوچنگ کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

وسیم اکرم نے کہا کہ خاص طور پر ایسے لوگوں کی جانب سے حکمت عملی اور تکنیک پر نامناسب انداز میں تنقید برداشت کرنا مشکل ہے جنہوں نے خود کبھی کرکٹ نہیں کھیلی۔

ان کا کہنا تھا کہ:

نادر محمدی ایکروبیٹک تھرو اِن کرتے ہوئے
ایرانی فٹبالر نادر محمدی کی منفرد ایکروبیٹک تھرو اِن۔

“اس مرحلے پر میں اس قسم کا دباؤ نہیں لینا چاہتا۔”

وسیم اکرم کے مطابق پاکستان ٹیم کی کوچنگ صرف میدان کے اندر کی ذمہ داری نہیں بلکہ میدان سے باہر بھی مختلف معاملات کو سنبھالنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے یہ کام آسان نہیں۔

کوچ کو شکست کا ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟

وسیم اکرم نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ جب پاکستان ٹیم کوئی میچ ہارتی ہے تو کوچ کو اکثر سب سے پہلے تنقید کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے۔

ان کے مطابق کوچ میدان میں کھیلنے والا شخص نہیں ہوتا بلکہ اصل کارکردگی کھلاڑیوں نے دکھانی ہوتی ہے۔

وسیم اکرم ماضی میں بھی اس بات کا اظہار کرچکے ہیں کہ شکست کی صورت میں کوچ کو ہر بار قربانی کا بکرا بنانا مناسب نہیں، کیونکہ میچ کا نتیجہ کھلاڑیوں کی میدان میں کارکردگی سے براہِ راست جڑا ہوتا ہے۔

2021 میں بھی یہی مؤقف اختیار کیا تھا

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ وسیم اکرم نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ سے دور رہنے کی خواہش ظاہر کی ہو۔

2021 میں بھی جب ان سے قومی ٹیم کی کوچنگ کے حوالے سے سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے اسی نوعیت کا مؤقف اختیار کیا تھا۔

وسیم اکرم نے اس وقت کہا تھا کہ کوچ میدان میں کھیلنے والا شخص نہیں ہوتا بلکہ کھلاڑی ہی میدان میں کھیلتے ہیں، اس لیے شکست کی صورت میں کوچ پر ضرورت سے زیادہ الزام نہیں آنا چاہیے۔

محمد حمزہ راجا نے مسٹر یونیورس چیمپیئن شپ میں گولڈ میڈل جیت لیا
محمد حمزہ راجا کا مسٹر یونیورس چیمپیئن شپ میں گولڈ میڈل

وقار یونس کے ساتھ سلوک بھی وجہ بنا

وسیم اکرم نے 2025 میں اپنے سابق ساتھی اور پاکستان کے عظیم فاسٹ باؤلر وقار یونس کے ساتھ قومی ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے ہونے والے سلوک کا بھی حوالہ دیا تھا۔

وقار یونس پاکستان ٹیم کے ساتھ متعدد مرتبہ کوچنگ کی ذمہ داری انجام دے چکے ہیں اور انہیں مختلف ادوار میں شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کے مطابق اپنے سابق ساتھی کے ساتھ ہونے والی تنقید اور مبینہ بے احترامی کو دیکھ کر ان کا یہ خیال مزید مضبوط ہوا کہ وہ پاکستان ٹیم کے مستقل کوچ کا عہدہ قبول نہیں کرنا چاہتے۔

پاکستان کرکٹ کی مدد سے انکار نہیں

اگرچہ وسیم اکرم قومی ٹیم کے مستقل کوچ بننے میں دلچسپی نہیں رکھتے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پاکستان کرکٹ کی مدد نہیں کرنا چاہتے۔

لیجنڈری فاسٹ باؤلر کے مطابق وہ کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنے، تربیتی کیمپس میں شریک ہونے یا ٹورنامنٹس کے دوران قومی ٹیم کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے یہاں تک کہا کہ وہ اس نوعیت کی خدمات بلا معاوضہ بھی انجام دینے پر آمادہ ہیں۔

یعنی وسیم اکرم پاکستان کرکٹ سے مکمل طور پر دور نہیں ہونا چاہتے، تاہم وہ مستقل کوچ کی حیثیت سے پیدا ہونے والے دباؤ، تنقید اور ذمہ داریوں کا حصہ بننے سے گریز کرتے ہیں۔

فاطمہ نسیم کا 340 پنچز کا عالمی ریکارڈ
فاطمہ نسیم نے ہاتھوں میں انڈے پکڑ کر ایک منٹ میں 340 پنچز لگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

پاکستان کرکٹ میں حالیہ تنازعات

وسیم اکرم کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کرکٹ ٹیم ایک بار پھر نظم و ضبط اور ٹیم مینجمنٹ سے متعلق مسائل کی زد میں ہے۔

انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز کے دوران سات کھلاڑیوں اور دو کوچز کو واپس بھیجے جانے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے ٹیم میں ڈسپلن اور طرزِ عمل سے متعلق تحقیقات بھی شروع کی ہیں۔

ایسے ماحول میں قومی ٹیم کے کوچ کو میدان کے اندر اور باہر دونوں محاذوں پر شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وسیم اکرم کا مؤقف واضح

وسیم اکرم گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان ٹیم کی مستقل کوچنگ سے متعلق تقریباً ایک ہی مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں۔

2021 میں انہوں نے کوچ پر شکست کا الزام ڈالنے کے رجحان پر سوال اٹھایا، 2025 میں وقار یونس کے تجربے کو اپنی تشویش کی ایک وجہ قرار دیا اور اب 2026 میں انہوں نے سوشل میڈیا، میڈیا تنقید اور ذاتی دباؤ کو بھی واضح طور پر سامنے رکھا ہے۔

یوں وسیم اکرم کا مؤقف واضح ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے اپنی خدمات ضرور دینا چاہتے ہیں، لیکن قومی ٹیم کے مستقل کوچ کی ذمہ داری قبول نہیں کرنا چاہتے۔

 
READ MORE FAQS”

وسیم اکرم پاکستان ٹیم کی کوچنگ کیوں نہیں کرنا چاہتے؟
وسیم اکرم کے مطابق کوچنگ کے دوران شکست کی صورت میں کوچ کو اکثر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا اور میڈیا کا دباؤ بھی بہت زیادہ ہے۔

کیا وسیم اکرم پاکستان کرکٹ کی مدد نہیں کرنا چاہتے؟
نہیں، وسیم اکرم نے پاکستان کرکٹ کی مدد سے انکار نہیں کیا۔ وہ کیمپس یا ٹورنامنٹس کے دوران کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

کیا وسیم اکرم پہلے بھی کوچنگ سے انکار کرچکے ہیں؟
جی ہاں، وسیم اکرم 2021 اور 2025 میں بھی پاکستان ٹیم کی مستقل کوچنگ کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔

وسیم اکرم نے کوچنگ کے حوالے سے کس چیز پر اعتراض کیا؟
انہوں نے خاص طور پر شکست کے بعد کوچ کو ذمہ دار ٹھہرانے، سوشل میڈیا تنقید اور نامناسب انداز میں کوچنگ حکمت عملی پر ہونے والی تنقید کو مسئلہ قرار دیا۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:24 AM
طلوع آفتاب05:48 AM
ظہر12:05 PM
عصر03:38 PM
مغرب06:21 PM
عشاء07:46 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6