فاطمہ نے 2کرسیوں کے درمیان اسٹریچنگ کرتے ہوئے ایک منٹ 45 سیکنڈ تک بیلنس برقار رکھ کا ریکارڈ بنایا۔
فاطمہ نسیم کی یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی نمایاں ہے کہ اس سے پہلے اسی کیٹیگری میں ایک منٹ کے دوران سب سے زیادہ پنچز لگانے کا ریکارڈ بھارتی کھلاڑی دبیا جیوتی سرکار کے پاس تھا۔ بھارتی کھلاڑی نے ایک منٹ میں 331 پنچز لگائے تھے، تاہم فاطمہ نسیم نے 340 پنچز لگا کر سابق ریکارڈ میں 9 پنچز کا اضافہ کردیا۔
ہاتھوں میں انڈے، رفتار میں غیر معمولی مہارت
فاطمہ نسیم کا ریکارڈ عام پنچنگ کے مقابلے میں اس لیے منفرد ہے کہ انہوں نے ہاتھوں میں انڈے پکڑ کر یہ مظاہرہ کیا۔ اس طرح کی سرگرمی میں کھلاڑی کو رفتار کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کی گرفت، توازن اور انتہائی احتیاط برقرار رکھنا پڑتی ہے۔
ایک منٹ کے مختصر دورانیے میں 340 پنچز مکمل کرنا تیز رفتاری اور مسلسل جسمانی کنٹرول کا تقاضا کرتا ہے۔ فاطمہ نسیم نے اس چیلنج میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سابق عالمی ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔
ان کی اس کامیابی کو گنیز ورلڈ ریکارڈز کی جانب سے تسلیم کیا گیا، جس کے بعد پاکستان کے لیے ایک اور عالمی اعزاز سامنے آیا۔
بھارتی کھلاڑی کا سابق ریکارڈ ٹوٹ گیا
فاطمہ نسیم سے پہلے ایک منٹ میں 331 پنچز لگانے کا ریکارڈ بھارتی کھلاڑی دبیا جیوتی سرکار کے نام تھا۔ پاکستانی کھلاڑی نے اپنے مظاہرے میں 340 پنچز لگا کر یہ ریکارڈ توڑ دیا۔
دونوں ریکارڈز کے درمیان 9 پنچز کا فرق ہے، تاہم اس مختصر فرق کے باوجود فاطمہ نسیم کی کامیابی کی اہمیت نمایاں ہے کیونکہ عالمی ریکارڈ کے لیے رفتار کے ساتھ مقررہ شرائط پوری کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
اسٹریچنگ کیٹیگری میں بھی عالمی ریکارڈ
فاطمہ نسیم کی کامیابی صرف پنچز تک محدود نہیں رہی۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز نے ان کا ایک اور کارنامہ بھی اسٹریچنگ کیٹیگری میں تسلیم کیا ہے۔
فاطمہ نسیم نے دو کرسیوں کے درمیان اسٹریچنگ کرتے ہوئے ایک منٹ 45 سیکنڈ تک اپنا بیلنس برقرار رکھا۔ اس دوران انہوں نے جسمانی لچک اور توازن کا مظاہرہ کیا، جسے عالمی ریکارڈ کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
ایک ہی کھلاڑی کی جانب سے رفتار، مارشل آرٹس، لچک اور توازن سے متعلق مختلف شعبوں میں عالمی ریکارڈ قائم کرنا ان کی ہمہ جہت جسمانی تربیت کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان کے لیے 10 عالمی ریکارڈز
فاطمہ نسیم کے لیے یہ کامیابی اس لیے بھی خاص ہے کہ ان کے عالمی ریکارڈز کی تعداد 10 تک پہنچ گئی ہے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ان کا یہ دسواں ریکارڈ ہے جسے گنیز ورلڈ ریکارڈز نے تسلیم کیا ہے۔
اس کامیابی کے بعد فاطمہ نسیم پاکستان کے لیے 10 عالمی ریکارڈ بنانے والی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئی ہیں۔ ان کی یہ پیش رفت پاکستانی خواتین کے کھیلوں میں بڑھتے ہوئے کردار کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
مارشل آرٹس جیسے شعبے میں عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے والی خواتین کھلاڑیوں کی کامیابیاں ملک کے کھیلوں کے منظرنامے میں ایک مثبت اضافہ سمجھی جاتی ہیں۔
نوجوان کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزا مثال
فاطمہ نسیم کا عالمی ریکارڈ نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ پاکستان میں مارشل آرٹس اور دیگر انفرادی کھیلوں سے وابستہ نوجوانوں کے لیے بھی حوصلہ افزا مثال بن سکتا ہے۔
خصوصاً خواتین کھلاڑیوں کے لیے عالمی سطح کے مقابلوں اور ریکارڈز میں جگہ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ مستقل تربیت، مہارت اور عزم کے ذریعے منفرد شعبوں میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا جاسکتا ہے
READ MORE FAQS
فاطمہ نسیم نے کتنے پنچز لگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا؟
فاطمہ نسیم نے ہاتھوں میں انڈے پکڑ کر ایک منٹ میں 340 پنچز لگانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔
فاطمہ نسیم سے پہلے یہ ریکارڈ کس کے پاس تھا؟
فاطمہ نسیم سے پہلے ایک منٹ میں 331 پنچز لگانے کا ریکارڈ بھارتی کھلاڑی دبیا جیوتی سرکار کے پاس تھا۔
فاطمہ نسیم نے پنچز لگاتے ہوئے ہاتھوں میں کیا پکڑا تھا؟
انہوں نے ریکارڈ بنانے کے دوران اپنے ہاتھوں میں انڈے پکڑے ہوئے تھے۔
فاطمہ نسیم کا اسٹریچنگ ریکارڈ کیا ہے؟
فاطمہ نسیم نے دو کرسیوں کے درمیان اسٹریچنگ کرتے ہوئے ایک منٹ 45 سیکنڈ تک بیلنس برقرار رکھنے کا ریکارڈ بنایا۔








