پاکستان میں تیار گاڑیوں کی بنگلہ دیش کو آزمائشی برآمدات رواں ماہ شروع ہوں گی
پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کی بنگلہ دیش کو آزمائشی بنیادوں پر برآمدات رواں ماہ ستمبر سے شروع ہونے جا رہی ہیں، جسے دونوں ممالک کے درمیان آٹو موبائل تجارت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستانی آٹو کمپنی اور بنگلہ دیشی کاروباری گروپ کے درمیان جولائی 2026 میں 5 ہزار گاڑیاں بنگلہ دیش برآمد کرنے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت رواں سال ابتدائی طور پر 100 گاڑیاں آزمائشی بنیادوں پر بنگلہ دیش بھیجی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق آزمائشی برآمدات کا آغاز ستمبر سے ہوگا، جبکہ بڑے پیمانے پر اور باقاعدہ ایکسپورٹ کا عمل اگلے سال شروع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
پاکستان میں SAIC Motor China کے اشتراک سے تیار ہونے والی عالمی برانڈ کی گاڑیوں کے دو ماڈلز رواں ماہ بنگلہ دیش برآمد کیے جائیں گے۔ اس پیش رفت کو پاکستان کی آٹو موٹیو صنعت کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس کے ذریعے پاکستانی ساختہ گاڑیوں کے لیے ایک نئی بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوگی۔
گاڑیاں برآمد کرنے والی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جیان چیانگ شاؤ کے مطابق ماضی میں مذکورہ ماڈلز چین سے برآمد کیے جاتے تھے، تاہم مذاکرات اور کوششوں کے بعد SAIC Motor کے ہیڈکوارٹر کو پاکستان میں موجود کمپنی کو سپورٹ کرنے اور کاروباری ماڈل تبدیل کرنے پر آمادہ کیا گیا۔
ان کے مطابق پہلے گاڑیوں کی مکمل تیار شدہ یونٹس یعنی CBU کی صورت میں چین سے برآمدات ہوتی تھیں، تاہم اب ماڈل کو پاکستان سے بنگلہ دیش CKD ایکسپورٹ کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں پاکستان کی آٹو موٹیو برآمدات میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو پیداواری لاگت کے حوالے سے مسابقتی فائدہ حاصل ہے جبکہ ملک میں تربیت یافتہ اور باصلاحیت انسانی وسائل بھی موجود ہیں۔
کمپنی کے سی ای او نے بنگلہ دیش کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو پاکستان میں پائیدار آٹو موٹیو ایکسپورٹ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ ماڈل دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ CKD ایکسپورٹ سے بنگلہ دیشی ڈسٹری بیوٹر کو درآمدی ڈیوٹی میں کمی کا فائدہ حاصل ہوگا، جبکہ پاکستانی کمپنی کے لیے بیرون ملک برآمدات بڑھانے کا موقع پیدا ہوگا۔
ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ سروسز بھی برآمد ہوں گی
پاکستانی کمپنی صرف گاڑیوں کی برآمد تک محدود نہیں رہے گی بلکہ بنگلہ دیشی پارٹنر کو گاڑیوں کی اسمبلی، جنرل اسمبلی (GA) اور کوالٹی کنٹرول کے طریقہ کار میں بھی معاونت فراہم کرے گی۔
کمپنی کے مطابق پاکستان کی مقامی انجینئرنگ ٹیم بنگلہ دیش جائے گی، جہاں وہ گاڑیوں کی اسمبلنگ کے حوالے سے تکنیکی رہنمائی کے ساتھ انجینئرنگ سروسز بھی فراہم کرے گی۔
اس طرح اس منصوبے میں صرف تیار شدہ مصنوعات کی برآمد ہی شامل نہیں بلکہ پاکستانی تکنیکی مہارت، انجینئرنگ اور متعلقہ خدمات کو بھی بیرون ملک متعارف کرانے کا موقع ملے گا۔
کمپنی کے سی ای او کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ معاہدہ کامیابی سے مکمل ہونے کی صورت میں یہ منصوبہ پاکستان سے پائیدار آٹو موٹیو ایکسپورٹ کی ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آٹو موبائل شعبے کے لیے برآمدی امکانات موجود ہیں اور مناسب کاروباری ماڈل، مسابقتی لاگت اور مقامی انسانی وسائل کی مدد سے عالمی منڈی میں پاکستانی آٹو انڈسٹری کی موجودگی کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔
پہلے مرحلے میں 100 گاڑیاں
معاہدے کے تحت رواں سال 100 گاڑیوں کی آزمائشی برآمد ہوگی۔ ابتدائی مرحلے کے نتائج اور کاروباری پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ سال بڑے پیمانے پر برآمدات شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔
پاکستانی گاڑیوں کی بنگلہ دیش ایکسپورٹ کا یہ منصوبہ ملک کی آٹو موٹیو صنعت کے لیے نئی بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی کے ساتھ ساتھ برآمدی آمدن بڑھانے اور مقامی انجینئرنگ صلاحیتوں کو بیرون ملک متعارف کرانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
READ MORE FAQS
سوال: پاکستانی گاڑیوں کی بنگلہ دیش ایکسپورٹ کب شروع ہوگی؟
آزمائشی بنیادوں پر پاکستانی گاڑیوں کی بنگلہ دیش ایکسپورٹ ستمبر 2026 سے شروع ہونے کی توقع ہے۔
سوال: پہلے مرحلے میں کتنی گاڑیاں بنگلہ دیش بھیجی جائیں گی؟
رواں سال آزمائشی بنیادوں پر 100 گاڑیاں بنگلہ دیش برآمد کی جائیں گی۔
سوال: پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کتنی گاڑیوں کا معاہدہ ہوا ہے؟
پاکستانی کمپنی اور بنگلہ دیشی کاروباری گروپ کے درمیان مجموعی طور پر 5 ہزار گاڑیوں کی برآمد کا معاہدہ طے پایا ہے۔
سوال: گاڑیاں کس کاروباری ماڈل کے تحت برآمد ہوں گی؟
گاڑیوں کو CKD یعنی مکمل گاڑی کے بجائے پرزوں کی صورت میں برآمد کرنے کے ماڈل کے تحت بنگلہ دیش میں اسمبل کیا جائے گا۔








