خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشت گرد ہلاک

خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 21 دہشت گرد ہلاک
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

خیبرپختونخوا میں مختلف جھڑپوں کے دوران 21 خوارج ہلاک، کلیئرنس آپریشن جاری

خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں خفیہ اطلاعات اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے 21 خوارج کو ہلاک کر دیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شمالی وزیرستان، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والی مختلف جھڑپوں کے دوران فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 31 اگست اور یکم ستمبر 2026 کی درمیانی شب شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے متعدد خوارج کو ہلاک کیا تھا۔ کارروائی کے بعد علاقے میں موجود مزید دہشت گردوں کے خلاف بھی آپریشن کیا گیا، جس میں مزید 10 خوارج مارے گئے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں دراندازی کی کوشش کرنے والے خوارج کی مجموعی تعداد 25 ہوگئی۔

شمالی وزیرستان میں ہی ایک اور جھڑپ کے دوران سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔ جوانوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے گروہ کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مزید 7 خوارج ہلاک ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والی دو الگ الگ جھڑپوں کے دوران مزید 4 خوارج ہلاک ہوئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاک افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کی مسلسل نقل و حرکت اور دراندازی کی کوششوں کے تناظر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں افغان طالبان حکومت کے حوالے سے بھی پاکستان کے مؤقف کو دہرایا۔ بیان کے مطابق پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں افغان طالبان حکومت مؤثر اقدامات نہیں کر سکی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان افغان طالبان حکومت سے مؤثر سرحدی انتظام یقینی بنانے اور بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے واضح کیا کہ ملکی سکیورٹی فورسز سرحدوں کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے عزم پر قائم ہیں۔ بیان کے مطابق پاک افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں موجود دیگر دہشت گرد عناصر کے خلاف بھی کلیئرنس کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مربوط انداز میں کارروائیاں کر رہے ہیں، جبکہ وفاقی ایپکس کمیٹی برائے قومی ایکشن پلان کے منظور کردہ وژن ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت انسداد دہشت گردی کی مہم کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔

READ MORE FAQS

سوال: خیبرپختونخوا میں کتنے دہشت گرد ہلاک ہوئے؟
آئی ایس پی آر کے مطابق مختلف کارروائیوں اور جھڑپوں میں مجموعی طور پر 21 خوارج ہلاک ہوئے۔

سوال: دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کن علاقوں میں ہوئیں؟
کارروائیاں شمالی وزیرستان، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کی گئیں۔

سوال: شمالی وزیرستان میں کارروائی کہاں ہوئی؟
آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور دراندازی کی کوششوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔

سوال: کیا کلیئرنس آپریشن ختم ہوگیا ہے؟
نہیں، آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود دیگر دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لیے کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:19 AM
طلوع آفتاب05:45 AM
ظہر12:06 PM
عصر03:41 PM
مغرب06:28 PM
عشاء07:53 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6