یوم دفاع: پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیتیں، آپریشن دوارکا سے معرکۂ حق تک
پاک بحریہ کی دفاعی تاریخ پاکستان کی بحری سلامتی، پیشہ ورانہ تیاری اور بدلتے ہوئے جنگی تقاضوں کے ساتھ مسلسل ارتقا کی عکاسی کرتی ہے۔ یوم دفاع کے موقع پر 1965 کی جنگ سے لے کر 2025 کے معرکۂ حق تک پاک بحریہ کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ بحری دفاع وقت کے ساتھ روایتی جنگی کارروائیوں سے جدید نگرانی اور کثیرالجہتی آپریشنل صلاحیتوں تک پہنچ چکا ہے۔
پاکستان کے قیام کے ابتدائی برسوں میں نئی ریاست کو محدود وسائل کے ساتھ ایک پیچیدہ سیکیورٹی ماحول کا سامنا تھا۔ مسلح افواج کو دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے دفاعی ڈھانچے کو منظم کرنا اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ تربیت، ادارہ جاتی ترقی اور دفاعی تیاری پر توجہ کے ذریعے پاکستان نے اپنی دفاعی قوت کو مضبوط کیا۔
ستمبر 1965 کی جنگ پاکستان کی مسلح افواج کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوئی۔ مختلف محاذوں پر بھارتی افواج کے ساتھ مقابلہ ہوا، جبکہ پاک بحریہ نے بھی سمندری حدود کے تحفظ اور دشمن کی بحری سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ذمہ داری انجام دی۔
آپریشن دوارکا کی اہمیت
1965 کی جنگ کے دوران پاک بحریہ کی نمایاں کارروائی آپریشن دوارکا تھی، جسے بعض حوالوں میں آپریشن سومناتھ بھی کہا جاتا ہے۔ 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب پاک بحریہ کے جنگی جہازوں کو بھارتی ساحلی شہر دوارکا کے خلاف کارروائی کا مشن سونپا گیا۔
اس کارروائی میں پی این ایس بابر، خیبر، بدر، جہانگیر، عالمگیر، شاہجہاں اور ٹیپو سلطان سمیت جنگی جہاز شامل تھے۔ آپریشن کے اہم مقاصد میں دوارکا میں موجود ریڈار تنصیب کو نشانہ بنانا، بھارتی فضائیہ کی توجہ شمالی محاذ سے ہٹانا اور بھارتی بحریہ پر دباؤ پیدا کرنا شامل تھا۔
اس دوران پاک بحریہ نے کراچی کے اطراف سمندری راستوں کی نگرانی بھی جاری رکھی۔ آبدوز پی این ایس/ایم غازی کو بھارتی بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا۔ اس دور میں بحری نگرانی اور جنگی جہازوں کی تعیناتی نے پاکستان کے بحری دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔
چھ دہائیوں میں بحری دفاع میں تبدیلی
1965 اور 2025 کے درمیان دنیا بھر میں جنگی حکمت عملی اور دفاعی ٹیکنالوجی میں نمایاں تبدیلی آئی۔ جدید دور میں بحری دفاع صرف جنگی جہازوں کی نقل و حرکت تک محدود نہیں رہا بلکہ نگرانی، معلومات کے بروقت حصول، بغیر پائلٹ نظام، الیکٹرانک صلاحیتوں، طویل فاصلے تک نگرانی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز بھی دفاعی حکمت عملی کا حصہ بن چکی ہیں۔
2025 کے معرکۂ حق کے دوران بھی بحری محاذ کی اہمیت نمایاں رہی۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن کے باعث سمندری راستے ملکی تجارت، توانائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ کراچی اور دیگر بندرگاہوں سے ہونے والی تجارتی سرگرمیاں ملکی معیشت کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے بحری تنصیبات اور سمندری راستوں کا تحفظ قومی سلامتی کا اہم حصہ ہے۔
بحیرہ عرب میں نگرانی اور آپریشنل تیاری
معرکۂ حق کے دوران پاک بحریہ نے بحیرہ عرب میں ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے اپنی آپریشنل تیاری برقرار رکھی۔ خطے میں بحری افواج کی موجودگی اور جنگی جہازوں کی نقل و حرکت کے تناظر میں سمندری نگرانی مزید اہم ہوگئی۔
اس صورتحال میں پاک بحریہ کی ذمہ داری صرف کسی براہ راست حملے کا جواب دینا نہیں بلکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگانا، بحری نقل و حرکت کو مانیٹر کرنا اور ملکی بندرگاہوں و تجارتی راستوں کی حفاظت یقینی بنانا بھی تھی۔
جدید بحری دفاع میں مؤثر نگرانی خود ایک اہم دفاعی صلاحیت تصور کی جاتی ہے۔ کسی ممکنہ خطرے کا بروقت سراغ لگانے اور اس کی نوعیت کو سمجھنے سے فیصلہ سازی بہتر ہوتی ہے اور دفاعی ردعمل کے لیے زیادہ وقت میسر آتا ہے۔
آپریشن دوارکا سے جدید بحری دفاع تک
1965 کے آپریشن دوارکا اور 2025 کے معرکۂ حق کے درمیان کئی دہائیوں کا فاصلہ موجود ہے، لیکن دونوں ادوار میں ایک بنیادی قدر مشترک نظر آتی ہے، وہ ہے ملکی خودمختاری اور سمندری حدود کے تحفظ کا عزم۔
1965 میں پاک بحریہ نے جنگی جہازوں کے ذریعے کارروائی کی اور آبدوز کو دشمن کی بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا۔ جدید دور میں بحری دفاع کا دائرہ وسیع ہوچکا ہے، جہاں نگرانی، اطلاعات، جدید مواصلاتی نظام اور مختلف دفاعی پلیٹ فارمز باہم مربوط ہوکر آپریشنل صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں۔
یوم دفاع اسی مستقل قومی عزم کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع کو اہمیت دیتا ہے اور ملکی سلامتی کے لیے بری، فضائی اور بحری تینوں محاذوں پر تیاری ضروری ہے۔
پاک بحریہ کے لیے سمندر صرف ملک کی جغرافیائی حد نہیں بلکہ قومی معیشت کا بھی اہم راستہ ہے۔ بندرگاہوں، ساحلی تنصیبات اور سمندری تجارتی راستوں کا تحفظ ملکی اقتصادی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے بھی ضروری ہے۔
1965 کے آپریشن دوارکا سے لے کر جدید دور کے پیچیدہ دفاعی ماحول تک پاک بحریہ کا سفر اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ دفاعی صلاحیتیں وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ٹیکنالوجی، نگرانی اور آپریشنل تیاری کے نئے تقاضوں کے باوجود بنیادی مقصد وہی ہے: پاکستان کی خودمختاری، سمندری حدود اور قومی مفادات کا تحفظ۔
6 ستمبر کا دن ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے دفاعی تقاضوں کو سمجھنے کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔ پاک بحریہ کے اہلکار سمندری حدود کی نگرانی اور ملکی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں، جبکہ یوم دفاع قوم کو ان خدمات اور قربانیوں کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔
READ MORE FAQS
آپریشن دوارکا کب کیا گیا؟
آپریشن دوارکا 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب کیا گیا۔
آپریشن دوارکا کا مقصد کیا تھا؟
اس کارروائی کے اہم مقاصد میں دوارکا میں موجود ریڈار تنصیب کو نشانہ بنانا اور بھارتی فوجی توجہ کو دوسرے محاذوں سے ہٹانا شامل تھا۔
پی این ایس غازی کا کردار کیا تھا؟
پی این ایس/ایم غازی کو بھارتی بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور بحری محاذ پر آپریشنل ذمہ داری انجام دینے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔
جدید دور میں پاک بحریہ کی اہم ذمہ داری کیا ہے؟
جدید دور میں پاک بحریہ کی ذمہ داریوں میں سمندری حدود کی نگرانی، ملکی بندرگاہوں کا تحفظ، بحری تنصیبات کی حفاظت اور اہم تجارتی سمندری راستوں کی سیکیورٹی شامل ہے۔








