اسلام آباد دہشتگردی مسجد خدیجۃ الکبریٰ: وزیراعظم کا دورہ، شہدا کیلئے 50 لاکھ امداد کا اعلان
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والی مسجد خدیجۃ الکبریٰ کا دورہ کر کے نہ صرف متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا بلکہ پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی بھی کی۔ یہ دورہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ملک ایک اندوہناک سانحے کے صدمے سے گزر رہا تھا۔ مسجد جیسے مقدس مقام پر دہشتگردی کی واردات نے ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل کو رنجیدہ کر دیا۔ وزیراعظم کی آمد اس بات کا پیغام تھی کہ ریاست اپنے شہریوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور دہشتگردی کے خلاف اس کا عزم غیر متزلزل ہے۔
وزیراعظم نے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے بدترین بربریت کی اور کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کے الفاظ میں دکھ، غصہ اور عزم تینوں جھلک رہے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عبادت گاہ کو نشانہ بنانا انسانیت پر حملہ ہے اور ایسے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ معاشرے میں تفریق اور نفرت پیدا کرنے کی سازش تھا، مگر پوری قوم نے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کر کے ان مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا ہے۔
وزیراعظم نے شہدا کے لواحقین سے ملاقات کی، ان کے غم میں شریک ہوئے اور انہیں یقین دلایا کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے شہدا کے ورثا کے لیے فی کس 50 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی سہارا فراہم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مالی مدد سے جان کا نقصان پورا نہیں ہو سکتا، مگر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی دیکھ بھال کرے اور انہیں تنہا نہ چھوڑے۔
مزید برآں وزیراعظم نے شدید زخمیوں کے لیے 30 لاکھ روپے اور معمولی زخمیوں کے لیے 10 لاکھ روپے فی کس امداد دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ہسپتال میں زیرِ علاج افراد کی عیادت بھی کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور حکومت ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے گی۔
اس دورے کا ایک اہم پہلو وہ لمحہ تھا جب وزیراعظم خودکش حملہ آور کو روکنے کی کوشش میں جامِ شہادت نوش کرنے والے بہادر نوجوان عون عباس شہید کے گھر پہنچے۔ انہوں نے عون عباس کی جرات اور قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بہادر سپوت قوم کا فخر ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ عون عباس نے اپنی جان دے کر بے شمار معصوم جانوں کو بچایا اور ان کی یہ قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے شہید کے اہلِ خانہ کو یقین دلایا کہ حکومت ان کی ہر ممکن مدد کرے گی اور ان کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں دہشتگردی کے خلاف قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب، مسلک یا قومیت نہیں ہوتی۔ یہ صرف اور صرف بربریت ہے جس کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر ایسے عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کرے گی اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں، علما، اساتذہ، بچوں اور عام شہریوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، مگر قوم نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ دہشتگردی کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔
مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے دورے کے دوران وزیراعظم نے مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی حکام سے بھی بریفنگ لی۔ انہوں نے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی ہدایت کی اور کہا کہ ذمہ داران کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف کی فراہمی نہ صرف متاثرہ خاندانوں کا حق ہے بلکہ یہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی ضروری ہے۔
وزیراعظم کے دورے نے متاثرہ خاندانوں میں یہ احساس پیدا کیا کہ ان کا دکھ پورے ملک کا دکھ ہے۔ سیاسی و سماجی حلقوں نے بھی اس اقدام کو سراہا اور اسے قومی یکجہتی کا مظہر قرار دیا۔ اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ملک میں امن، بھائی چارے اور رواداری کے فروغ کے لیے متحد رہیں گے۔
یہ سانحہ بلاشبہ ایک دل خراش واقعہ تھا، مگر اس نے قوم کو مزید متحد کر دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کے بیانات اور اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر کاربند ہے۔ شہدا کی قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور ان کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی۔
آخر میں وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہدا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے اور پاکستان کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنائے۔ ان کا یہ دورہ محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ عزم، یکجہتی اور ذمہ داری کا عملی اظہار تھا، جس نے قوم کو یہ پیغام دیا کہ دہشتگردی کے اندھیروں کے باوجود امید اور حوصلے کی شمع روشن ہے۔


One Response