اسلام آباد بلدیاتی نظام میں بڑی تبدیلی، صدرِ مملکت کا نیا آرڈیننس نافذ

اسلام آباد بلدیاتی نظام میں تبدیلی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

صدرِ مملکت کا اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس جاری، میٹروپولیٹن کارپوریشن ختم

اسلام آباد میں بلدیاتی نظام سے متعلق ایک بڑی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس نے وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور انتظامی منظرنامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ ایک جانب جہاں اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی کر دیے گئے ہیں، وہیں دوسری جانب صدرِ مملکت کی جانب سے اسلام آباد مقامی حکومت آرڈننس جاری کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے موجودہ بلدیاتی ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔

نئے صدارتی آرڈننس کے تحت وفاقی دارالحکومت میں میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کا نظام ختم کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ ٹاؤن کارپوریشنز کا نیا نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو حکومت کی جانب سے اختیارات کی ازسرنو تقسیم اور بلدیاتی نظم و نسق کو مؤثر بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم سیاسی حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے اس پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔

آرڈننس کے مطابق اسلام آباد کو قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی بنیاد پر تین ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر قومی اسمبلی حلقہ ایک ٹاؤن کارپوریشن پر مشتمل ہو گا، جس کے تحت بلدیاتی نظام کو پارلیمانی حلقہ بندیوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ ہر ٹاؤن کارپوریشن میں یونین کونسلز کی تعداد کا تعین وفاقی حکومت نوٹیفائی کرے گی، جس سے حکومت کو انتظامی سطح پر نمایاں اختیار حاصل ہو جائے گا۔

صدرِ مملکت کی جانب سے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کے لیے جاری کردہ اس آرڈننس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ حکومت عوامی اعتراضات اور سفارشات سننے کے بعد ٹاؤن کارپوریشنز اور یونین کونسلز کی حدود میں ترمیم کر سکتی ہے۔ تاہم یہ شرط بھی شامل کی گئی ہے کہ الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد کسی بھی قسم کی حلقہ بندی یا حد بندی میں تبدیلی نہیں کی جا سکے گی، تاکہ انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال نہ اٹھے۔

آرڈننس میں مقامی حکومت کی واضح تعریف بھی کی گئی ہے، جس کے مطابق مقامی حکومت سے مراد یونین کونسل اور ٹاؤن کارپوریشن ہو گی۔ جہاں مقامی حکومت قائم نہیں ہو گی، وہاں وفاقی حکومت ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کی مجاز ہو گی۔ اسی طرح “سربراہ” کی تعریف بھی متعین کی گئی ہے، جس کے تحت ٹاؤن کارپوریشن کے سربراہ کو مئیر جبکہ یونین کونسل کے سربراہ کو چیئرمین کہا جائے گا۔

انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے آرڈننس میں تفصیل سے اختیارات اور نمائندگی کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک مئیر اور دو ڈپٹی مئیر ہوں گے، جب کہ یونین کونسل کے چیئرمین بطور جنرل ممبران ٹاؤن کارپوریشن کا حصہ ہوں گے۔ اس نظام کے ذریعے یونین کونسل اور ٹاؤن کارپوریشن کے درمیان براہ راست ربط قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ شمولیتی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ٹاؤن کارپوریشن میں مخصوص نشستوں کا بھی تعین کیا گیا ہے۔ ان نشستوں میں چار خواتین، ایک کسان یا ورکر، ایک تاجر یا بزنس مین، ایک نوجوان اور ایک غیر مسلم رکن شامل ہوں گے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد مختلف طبقوں کو بلدیاتی نظام میں مؤثر نمائندگی فراہم کرنا ہے، تاکہ فیصلہ سازی میں تمام طبقات کی آواز شامل ہو سکے۔

یونین کونسل کی سطح پر انتخابی طریقہ کار میں بھی نمایاں تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ جنرل ممبران کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہو گا اور پوری یونین کونسل کو ملٹی ممبر وارڈ قرار دیا گیا ہے۔ ہر ووٹر صرف ایک جنرل ممبر امیدوار کو ووٹ دے سکے گا، جبکہ سب سے زیادہ ووٹ لینے والے نو امیدوار جنرل ممبران منتخب قرار پائیں گے۔ یہ نظام تناسبی نمائندگی کے بجائے اکثریتی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے۔

آرڈننس کے تحت کامیاب جنرل ممبران تیس دن کے اندر کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکیں گے۔ جنرل ممبران یونین کونسل کی مخصوص نشستوں پر ارکان کا انتخاب شو آف ہینڈ کے ذریعے کریں گے، جب کہ جنرل اور مخصوص نشستوں کے ارکان مل کر اپنے اندر سے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب بھی شو آف ہینڈ کے ذریعے کریں گے۔ چیئرمین اور وائس چیئرمین کو بھی انتخاب کے بعد تیس دن کے اندر سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

یونین کونسل کا چیئرمین ازخود ٹاؤن کارپوریشن کا جنرل ممبر ہو گا، جس سے نچلی سطح کی قیادت کو بالائی بلدیاتی ڈھانچے میں نمائندگی حاصل ہو گی۔ ٹاؤن کارپوریشن کی سطح پر بھی مخصوص نشستوں کے ارکان کا انتخاب شو آف ہینڈ کے ذریعے کیا جائے گا، جب کہ مئیر اور ڈپٹی مئیر کا انتخاب ٹاؤن کارپوریشن کے تمام ممبران اکثریتی ووٹ سے مشترکہ طور پر کریں گے۔ آرڈننس میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف ٹاؤن کارپوریشن کا رکن ہی مئیر یا ڈپٹی مئیر کا انتخاب لڑنے کا اہل ہو گا۔

انتخابی امور کے حوالے سے یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ یونین کونسلز کی حلقہ بندی الیکشن کمیشن آف پاکستان کرے گا، جب کہ وزارت داخلہ کی سفارش پر وفاقی حکومت ٹاؤن کارپوریشن کے اندر یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ یا کمی کر سکے گی۔ اس شق کو انتظامی سہولت کے ساتھ ساتھ سیاسی مداخلت کے خدشات کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

مالی اختیارات کے ضمن میں آرڈننس میں مقامی حکومت یا ایڈمنسٹریٹر کو ٹیکس، فیس، کرایہ، ٹول اور دیگر چارجز عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ تاہم ہر نئے ٹیکس کی تجویز کے لیے حکومت سے پیشگی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے تجویز کردہ ٹیکس حکومت کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی مقامی حکومت یا ایڈمنسٹریٹر کو ٹیکس میں اضافہ، کمی، خاتمہ یا استثنیٰ دینے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔

آرڈننس کے مطابق وفاقی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ مقامی حکومت یا ایڈمنسٹریٹر کو ہدایات جاری کرے، اور مقامی حکومت یا ایڈمنسٹریٹر ان ہدایات پر عمل درآمد کا پابند ہو گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ شق مقامی حکومت کی خود مختاری کو محدود کر سکتی ہے، جب کہ حکومتی مؤقف ہے کہ اس سے نظم و نسق اور جواب دہی کو بہتر بنایا جا سکے گا۔

مجموعی طور پر اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا ایک بار پھر ملتوی ہونا اور نیا مقامی حکومت آرڈننس نافذ ہونا ایک بڑی آئینی اور سیاسی پیش رفت ہے۔ یہ اقدامات جہاں ایک نئے بلدیاتی ڈھانچے کی بنیاد رکھ رہے ہیں، وہیں انتخابات میں تاخیر کے باعث جمہوری عمل پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس آرڈننس کے عملی نفاذ، عدالتی جائزے اور سیاسی ردعمل سے یہ واضح ہو گا کہ آیا یہ نظام واقعی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کر پاتا ہے یا نہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]