اسلام آباد میں ایم ٹیگ ڈیڈ لائن ختم، بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگوانے کی مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہوچکی ہے اور آج سے بغیر ایم ٹیگ گاڑیاں شہر میں داخل نہیں ہوسکیں گی۔ حکومت کی جانب سے تاحال ڈیڈ لائن میں مزید توسیع کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے داخلی راستوں پر سخت چیکنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد وفاقی دارالحکومت کو محفوظ، منظم اور جدید ٹریفک نظام سے ہم آہنگ بنانا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پہلے ہی شہر کے تمام انٹری پوائنٹس پر بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کر دیے تھے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے شہریوں کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام گاڑی مالکان ہر صورت اپنی گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگوا لیں، بصورت دیگر انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم ٹیگ سسٹم جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جو نہ صرف گاڑیوں کی شناخت میں مدد دیتا ہے بلکہ سیکیورٹی خدشات کے خاتمے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
ڈی سی اسلام آباد کے مطابق شہریوں کی سہولت کے لیے شہر بھر میں 16 ایم ٹیگ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جہاں اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگایا جا چکا ہے۔ ان سینٹرز پر تربیت یافتہ عملہ تعینات ہے جو شہریوں کو تیزی اور آسانی کے ساتھ یہ سہولت فراہم کر رہا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایم ٹیگ لگوانے کا عمل نہایت سادہ ہے اور چند منٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے، اس کے باوجود کچھ شہریوں کی جانب سے غفلت اور تاخیر کا مظاہرہ کیا گیا۔
اسلام آباد کے 12 بڑے انٹری پوائنٹس سمیت شہر کے مختلف مقامات پر ناکے قائم کیے گئے ہیں، جہاں بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کی نشاندہی کے لیے جدید ریڈرز نصب کیے گئے ہیں۔ یہ ریڈرز مکمل طور پر فعال ہیں اور جیسے ہی کوئی بغیر ایم ٹیگ گاڑی ان پوائنٹس سے گزرنے کی کوشش کرتی ہے، سسٹم فوری طور پر الرٹ جاری کر دیتا ہے۔ ریڈرز کے فعال ہوتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف عملی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت ایسی گاڑیوں کو شہر میں داخلے سے روکا جا رہا ہے اور بعض صورتوں میں جرمانے بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔
ڈائریکٹر ایکسائز اسلام آباد بلال اعظم نے شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایم ٹیگ سینٹرز کے اوقات کار میں توسیع کا اعلان کیا تھا، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد شہریوں کو مشکلات میں ڈالنا نہیں بلکہ ایک منظم اور محفوظ نظام متعارف کروانا ہے، جس سے طویل المدتی بنیادوں پر شہریوں ہی کو فائدہ پہنچے گا۔
ایم ٹیگ منصوبے کا بنیادی مقصد وفاقی دارالحکومت کو شہریوں کے لیے محفوظ ترین شہر بنانا ہے۔ اس جدید نظام کے ذریعے نہ صرف مشکوک گاڑیوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکے گی بلکہ جرائم کی روک تھام، ٹریفک مینجمنٹ اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق ایم ٹیگ کے ذریعے شہر میں داخل ہونے والی ہر گاڑی کا ڈیٹا ریکارڈ ہوگا، جس سے جرائم پیشہ عناصر کے لیے دارالحکومت میں داخل ہونا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وزارت داخلہ نے گاڑیوں کو ایم ٹیگ لگوانے کے لیے 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی، تاہم شہریوں کی درخواستوں اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے بعد ازاں 15 روز کی اضافی مہلت بھی دی گئی تھی۔ اس اضافی وقت کے باوجود متعدد شہریوں نے ایم ٹیگ نہیں لگوایا، جس پر انتظامیہ نے اب بلا امتیاز کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر کے تمام انٹری پوائنٹس پر چیکنگ کا عمل مسلسل جاری رہے گا اور بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔ حکام کے مطابق یہ اقدام وقتی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر نافذ کیا جا رہا ہے، تاکہ اسلام آباد کو ایک ماڈل سمارٹ سٹی کے طور پر ترقی دی جا سکے۔
شہری حلقوں کی جانب سے ایم ٹیگ سسٹم پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ بعض شہریوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے شہر کی سیکیورٹی بہتر ہوگی، جبکہ کچھ افراد نے آخری دنوں میں رش اور سہولیات کی کمی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ تمام سہولیات بروقت فراہم کی گئیں اور عوام کو بارہا آگاہ کیا گیا۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے فوری طور پر اپنی گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگوائیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ قانون پر عملدرآمد ہی ایک محفوظ اور پرامن اسلام آباد کی ضمانت ہے۔

