اسلام آباد کی نئی یادگار کو سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کے بعد انتظامیہ نے گرانا شروع کردیا

اسلام آباد میں متنازع یادگار کو مشینری کے ذریعے گراتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

دارالحکومت اسلام آباد میں نصب کی گئی نئی یادگار اب صرف یادوں میں رہ جائے گی، انتظامیہ نے تنقید کے بعد اسے گرانا شروع کردیا۔

اسلام آباد میں نصب کی جانے والی نئی یادگار بحث کا موضوع بننے کے بعد گرائی جارہی ہے، انتظامیہ کی جانب سے بھاری بھرکم مشینوں کے ذریعے توڑ پھوڑ شروع کردی گئی ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ نے مارگلہ ایونیو چورنگی پر نئی یادگار نصب کی تھی، جس میں سہنری رنگ کے دو انسانی ہاتھوں کو دکھایا گیا تھا جبکہ ان ہاتھوں پر سفید گیند نما چیز بھی نصب کی گئی تھی۔

سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ کچھ دنوں بعد یہ یادگار ‘یاد’ بن جائے گی لیکن پتا تو چلے آخر یہ کس کا ویژن تھا، سوشل میڈیا پر اس یادگار کے حوالے سے گزشتہ کچھ دنوں سے تابڑ توڑ سوالات کی بھرمار رہی ہے۔

ایک شخص نے پوچھا کہ یہ کس کا ویژن تھا سر، ایک اور صارف نے لکھا کہ اس نئی یادگار کا مطلب یہی ہے کہ پاکستان کے ہاتھوں میں پاور ہے یہ ہاتھ کٹ سکتے ہیں لیکن جھک نہیں سکتے۔

اسلام آباد میں یادگار کی تنصیب کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی تھی اور میمز کا طوفان آگیا، سوشل میڈیا پر توجہ ملنے کے بعد انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں، پہلے تو اس نئی نویلی یادگار کو کپڑوں سے ڈھک دیا گیا پھر اس کے بعد اسے توڑنا شروع کردیا گیا۔

اب اس یادگار کو گرایا جارہا ہے اور عوام کو قریب جانے سے روک یا گیا ہے، تاہم لوگ سوال کررہے ہیں کہ اسے کیا سوچ کر بنایا گیا تھا، اور اگر بناہی لیا گیا تھا تو پھر اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]