جے یو آئی خواتین نشست پر الیکشن کمیشن فیصلہ، صدف احسان کی رکنیت برقرار

جے یو آئی خواتین نشست پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

قومی اسمبلی میں جے یو آئی کی خواتین کی مخصوص نشست، الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

قومی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی خواتین کی مخصوص نشست کے معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حتمی فیصلہ سنا دیا ہے، جس کے بعد جاری قانونی اور سیاسی ابہام کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے جے یو آئی (ف) کی رہنما حنا بی بی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ صدف احسان کی قومی اسمبلی کی رکنیت برقرار رہے گی اور وہ بدستور بطور رکن پارلیمنٹ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہیں گی۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خواتین کی مخصوص نشستوں پر نامزدگیوں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے اندرونی اختلافات اور قانونی تنازعات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو نہ صرف جے یو آئی (ف) بلکہ مجموعی طور پر پارلیمانی سیاست کے لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن میں سماعت کے دوران حنا بی بی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ صدف احسان کا نام جے یو آئی (ف) کی جانب سے الیکشن کمیشن کو جمع کرائی گئی ترجیحی فہرست میں شامل نہیں تھا، اس لیے انہیں قومی اسمبلی کی مخصوص نشست پر نامزد کرنا آئین اور الیکشن قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ ان کا نام ترجیحی فہرست میں شامل تھا، اس لیے انہیں صدف احسان کی جگہ قومی اسمبلی کی رکنیت دی جانی چاہیے اور صدف احسان کو ڈی نوٹیفائی کیا جائے۔

تاہم الیکشن کمیشن نے تمام فریقین کے دلائل سننے، ریکارڈ کا بغور جائزہ لینے اور متعلقہ قوانین و ضوابط کا مطالعہ کرنے کے بعد حنا بی بی کی درخواست مسترد کر دی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صدف احسان کی نامزدگی قانونی تقاضوں کے مطابق کی گئی اور اس میں کوئی ایسی خامی یا بے ضابطگی ثابت نہیں ہو سکی جس کی بنیاد پر ان کی رکنیت ختم کی جائے۔

الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر نامزدگی کا عمل سیاسی جماعتوں کی فراہم کردہ فہرستوں اور آئینی طریقۂ کار کے تحت مکمل کیا جاتا ہے، اور جب تک کسی واضح قانونی خلاف ورزی یا بدنیتی کو ثابت نہ کیا جائے، منتخب یا نامزد رکن کو ڈی نوٹیفائی نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے دلائل محض تشریحی نوعیت کے تھے اور وہ ایسے شواہد پیش کرنے میں ناکام رہیں جو صدف احسان کی نامزدگی کو غیر قانونی قرار دے سکیں۔ اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے متفقہ طور پر درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ کیا۔

الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں حنا بی بی کو یہ قانونی حق بھی دیا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو اس فیصلے کے خلاف الیکشن ٹربیونل سے رجوع کر سکتی ہیں۔ کمیشن نے واضح کیا کہ درخواست مسترد ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ درخواست گزار کے پاس مزید کوئی قانونی راستہ موجود نہیں، بلکہ وہ مقررہ مدت کے اندر الیکشن ٹربیونل میں اپیل دائر کر سکتی ہیں۔

فیصلے کے بعد صدف احسان کی قومی اسمبلی کی رکنیت برقرار رہے گی اور وہ بطور رکن پارلیمنٹ قانون سازی، کمیٹی اجلاسوں اور دیگر پارلیمانی امور میں اپنی ذمہ داریاں بدستور ادا کرتی رہیں گی۔ صدف احسان کے حامیوں نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو قانون اور آئین کی فتح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلے سے غیر ضروری سیاسی کشمکش کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے مستقبل میں پیدا ہونے والے تنازعات کے لیے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر اس اصول کو اجاگر کیا ہے کہ کسی بھی رکن کو محض سیاسی اختلاف یا جماعتی اندرونی تنازع کی بنیاد پر نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دوسری جانب حنا بی بی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے مطمئن نہیں اور قانونی مشاورت کے بعد الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرنے کا امکان موجود ہے۔ ان کے مطابق معاملہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور اگلا مرحلہ عدالتی فورم پر طے ہو سکتا ہے۔

یہ معاملہ جے یو آئی (ف) کے اندرونی نظم و ضبط اور پارٹی فہرستوں کی تیاری کے عمل پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ مخصوص نشستوں کے لیے فہرستیں مرتب کرتے وقت زیادہ شفافیت اور وضاحت اختیار کریں تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئینِ پاکستان کے تحت خواتین کی مخصوص نشستیں سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی طاقت کے تناسب سے الاٹ کی جاتی ہیں اور ان پر نامزدگی کا اختیار بڑی حد تک پارٹی قیادت کے پاس ہوتا ہے۔ تاہم، اگر فہرستوں میں ابہام یا تضاد ہو تو ایسے تنازعات جنم لیتے ہیں، جن کا فیصلہ بالآخر الیکشن کمیشن یا عدالتوں کو کرنا پڑتا ہے۔

مجموعی طور پر الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ قومی اسمبلی میں جے یو آئی (ف) کی خواتین کی مخصوص نشست کے معاملے پر ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف صدف احسان کی پارلیمانی حیثیت مستحکم ہوئی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ انتخابی قوانین اور آئینی طریقۂ کار سے ہٹ کر کسی بھی رکنیت کو چیلنج کرنا آسان نہیں۔

اب تمام نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا حنا بی بی اس فیصلے کے خلاف الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرتی ہیں یا نہیں، اور اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو آئندہ قانونی کارروائی اس معاملے کو کس سمت لے کر جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]