کراچی گل پلازہ آتشزدگی پر صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار افسوس

کراچی گل پلازہ آتشزدگی میں ریسکیو آپریشن اور فائر بریگیڈ کی کارروائی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کراچی گل پلازہ میں آگ، صدر مملکت اور وزیراعظم کی متاثرین کیلئے فوری امداد کی ہدایت

صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف نے کراچی کے مصروف تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اس افسوسناک سانحے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر صدر اور وزیرِ اعظم دونوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی ہے۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس غم کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ صدرِ مملکت نے سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ متاثرہ افراد، تاجروں اور دکانداروں کو فوری اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے اور زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات مہیا کی جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسانی جانوں کے تحفظ میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

صدر آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے عمارتوں میں حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی سسٹمز اور ایمرجنسی اقدامات کو یقینی بنایا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف نے بھی گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ایک قومی سانحہ ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ وزیرِ اعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور تمام ادارے باہمی تعاون سے کام کریں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے زور دیا کہ لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں اور متاثرہ تاجروں، دکانداروں اور دیگر افراد کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے زخمیوں کو فوری اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بڑے شہروں میں کمرشل عمارتوں کی فائر سیفٹی کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے تاکہ آئندہ ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ریسکیو اداروں کی جانب سے بھرپور کوششیں جاری ہیں اور آگ پر قابو پانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جسے تیسرے درجے کی آگ قرار دیا گیا۔ آگ اس قدر شدید تھی کہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود اس پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ آگ لگنے کے نتیجے میں اب تک 6 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق آگ کی شدت کے باعث گل پلازہ کے کچھ حصے منہدم بھی ہو گئے، جس سے ریسکیو آپریشن کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عمارت میں موجود دکانوں اور دفاتر میں موجود سامان جل کر خاکستر ہو گیا جبکہ کئی افراد دھوئیں اور شدید گرمی کے باعث بے ہوش ہو گئے۔ فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں موقع پر موجود رہیں اور آگ بجھانے کی مسلسل کوششیں کی جاتی رہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کی وجہ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا تاہم شارٹ سرکٹ یا فائر سیفٹی انتظامات کی کمی کو ممکنہ وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔ متعلقہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ذمہ داروں کے تعین کے بعد قانونی کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔

شہری حلقوں اور تاجر برادری کی جانب سے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات بڑے سانحات کو جنم دے رہے ہیں اور حکومت کو اس حوالے سے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ شہری علاقوں میں بلند و بالا اور تجارتی عمارتوں کے لیے حفاظتی اصولوں پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں قیمتی انسانی جانوں اور املاک کو محفوظ بنایا جا سکے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]