وفاقی وزیر بحری امور کا بڑا فیصلہ: کراچی بندرگاہ کنٹینرز سے خالی کرانے کے لیے ایک ماہ کا الٹی میٹم جاری
حکومت پاکستان نے ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ پر تجارتی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور رش کم کرنے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کراچی بندرگاہ کنٹینرز جو کہ طویل عرصے سے وہاں پھنسے ہوئے ہیں، انہیں ہٹانے کے لیے 30 دن کی حتمی مہلت دے دی گئی ہے۔
بندرگاہ پر رش اور علاقائی صورتحال
وفاقی وزیر نے اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ موجودہ علاقائی صورتحال اور بدلتے ہوئے تجارتی حالات کے پیش نظر بندرگاہوں پر ٹرانس شپمنٹ کارگو کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال میں کراچی بندرگاہ کنٹینرز کی موجودگی سے جگہ کی کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے نئے آنے والے مال بردار جہازوں اور کارگو کی ہینڈلنگ میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بندرگاہوں پر رش کم کرنے کے لیے ایک جامع اور موثر حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ٹرمینل آپریٹرز کو سخت ہدایات
جنید انوار چوہدری نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) اور تمام ٹرمینل آپریٹرز کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ کراچی بندرگاہ کنٹینرز کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ایک مربوط "شفٹنگ پلان” پیش کریں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بندرگاہ کی زمین کو گودام کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، خاص طور پر ان کنٹینرز کے لیے جو برسوں سے کلیئرنس کے منتظر ہیں۔
آف ڈاک ٹرمینلز اور کمرشل میکنزم
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کارگو کی آف ڈاک ٹرمینلز پر منتقلی کے لیے ایک واضح اور شفاف کمرشل میکنزم بنایا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے حکام کو ہدایت کی کہ کراچی بندرگاہ کنٹینرز اور ٹرانس شپمنٹ کارگو کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ برقرار رکھا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے بچا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اضافی سامان، لکڑی کے پرانے پیلیٹس اور غیر استعمال شدہ آلات کو بھی فوری طور پر ٹھکانے لگایا جائے تاکہ آپریشنل ایریا میں وسعت پیدا ہو سکے۔
تجارتی آسانی اور لاجسٹکس میں بہتری
ان اقدامات کا بنیادی مقصد پاکستان کی سمندری تجارت کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ کراچی بندرگاہ کنٹینرز سے خالی ہونے کے بعد لاجسٹکس کا نظام بہتر ہوگا اور درآمد کنندگان و برآمد کنندگان کو اپنے مال کی ترسیل میں کم وقت لگے گا۔ وفاقی وزیر نے اعادہ کیا کہ حکومت تاجر برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن بندرگاہ کے آپریشنز میں کسی بھی قسم کی سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔
مستقبل کا لائحہ عمل
30 روزہ مہلت ختم ہونے کے بعد ان کراچی بندرگاہ کنٹینرز کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جن کے مالکان نے انہیں منتقل نہیں کیا ہوگا۔ وزارت بحری امور اس عمل کی خود نگرانی کر رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کراچی بندرگاہ کنٹینرز کے بوجھ سے آزاد ہو کر اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کام کر سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف پورٹ ریونیو میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی شپنگ لائنز کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
سوست ڈرائی پورٹ پاک چین تجارت اور گلگت بلتستان کی خوشحالی کا ضامن
یاد رہے کہ کراچی بندرگاہ کنٹینرز کی بروقت منتقلی سے پورٹ کی کارکردگی میں 25 فیصد تک بہتری آنے کا امکان ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ثابت ہوگا۔