قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں پروقار تقریب
قازقستان کے معزز صدر، جناب قاسم جومارت توکایووف، کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ایک نہایت پروقار اور یادگار استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جو پاکستان کی شاندار سفارتی روایات، اعلیٰ مہمان نوازی اور برادر ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات کا حسین عکاس تھا۔ یہ تقریب نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کی علامت تھی بلکہ باہمی احترام، اعتماد اور بھائی چارے کے جذبات کی بھی بھرپور ترجمان تھی۔
وزیراعظم ہاؤس آمد پر وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے معزز مہمان کا انتہائی پرتپاک اور دوستانہ انداز میں استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان مصافحہ ہوا اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ کیا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ پاکستان اور قازقستان کے تعلقات محض رسمی نوعیت کے نہیں بلکہ خلوص اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔ یہ لمحہ کیمروں کی آنکھ میں محفوظ ہو گیا اور سفارتی تاریخ کا ایک خوبصورت باب بن گیا۔
استقبالیہ تقریب کا آغاز دونوں ممالک کے قومی ترانوں سے ہوا۔ قومی ترانوں کی دھنیں فضا میں گونج اٹھیں، جنہوں نے تقریب کو ایک باوقار اور جذباتی رنگ عطا کیا۔ یہ لمحہ دونوں قوموں کی خودمختاری، قومی وقار اور باہمی احترام کی علامت تھا۔ اس کے بعد پاکستان کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے قازقستان کے صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ یہ گارڈ آف آنر عسکری نظم و ضبط، پیشہ ورانہ مہارت اور پاکستان کی دفاعی افواج کے اعلیٰ معیار کا عملی مظہر تھا۔
گارڈ آف آنر کے موقع پر قازقستان کے صدر نے پریڈ کا معائنہ کیا اور سلامی لی۔ اس دوران مسلح افواج کے جوانوں کی ہم آہنگی، چاق و چوبندی اور پرعزم انداز نے معزز مہمان پر گہرا مثبت تاثر چھوڑا۔ یہ اعزاز دراصل پاکستان کی جانب سے قازقستان کے صدر کے لیے احترام، دوستی اور قدر دانی کا اظہار تھا، جو دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوط بنیادوں کی عکاسی کرتا ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قازقستان کے صدر کو اپنی کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کا تعارف کرایا۔ بعد ازاں صدر قاسم جومارت توکایووف نے بھی اپنے ہمراہ آئے ہوئے اعلیٰ سطحی وفد کو وزیراعظم پاکستان سے متعارف کرایا۔ یہ تعارفی مرحلہ اس بات کی علامت تھا کہ دونوں ممالک نہ صرف قیادت کی سطح پر بلکہ ادارہ جاتی اور حکومتی سطح پر بھی تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ منگل کو صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے نورخان ایئربیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار،وفاقی کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکام بھی قازقستان کے صدر کے… pic.twitter.com/xgJY19Sp4T
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) February 3, 2026
واضح رہے کہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی دعوت پر پاکستان کے سرکاری دورے پر تشریف لائے ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے دوران مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے، جو پاک–قازق تعلقات کو ایک نئی جہت فراہم کریں گے۔
قازقستان کے صدر کی پاکستان آمد پر انہیں غیر معمولی عزت و احترام دیا گیا۔ گزشتہ روز نور خان ایئر بیس پر معزز مہمان کے طیارے کی آمد پر 21 توپوں کی سلامی دی گئی، جو عالمی سفارتی آداب کے مطابق کسی سربراہِ مملکت کے لیے اعلیٰ ترین عسکری اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ اس موقع پر پاک فضائیہ کے جدید لڑاکا طیاروں نے فضا میں شاندار سلامی پیش کی اور جیسے ہی قازقستان کے صدر کا طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا، جنگی طیاروں نے اسے حفاظتی حصار میں لے لیا۔
یہ فضائی استقبال پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت، اعلیٰ تربیت اور ہمہ وقت تیار رہنے کے عزم کا مظہر تھا۔ چھ رکنی فارمیشن کی منظم پرواز اور فضائی حصار نے نہ صرف پاکستان کی فضائی خودمختاری کو اجاگر کیا بلکہ معزز مہمان کے لیے پاکستان کے خلوص اور دوستی کے جذبات کو بھی نمایاں کیا۔ یہ فضائی سلامی دراصل دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور دفاعی تعاون کے امکانات کا ایک خوبصورت استعارہ تھی۔
وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ استقبالیہ تقریب اور اس سے قبل دیا گیا عسکری و فضائی استقبال اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان قازقستان کو ایک قریبی دوست اور قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور علاقائی روابط موجود ہیں، جنہیں وقت کے ساتھ مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان اور قازقستان کا تعاون نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
مجموعی طور پر، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کے اعزاز میں دیا گیا یہ شاندار استقبال، گارڈ آف آنر اور فضائی سلامی پاکستان کی اعلیٰ سفارتی اقدار، مہمان نوازی اور دوستی کے جذبے کا واضح ثبوت ہے۔ یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرپا، مستحکم اور ہمہ جہت تعلقات کے فروغ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور مستقبل میں باہمی تعاون کے نئے دروازے کھولنے کا باعث بنے گا۔


One Response