قلعہ عبداللہ لیویز پوسٹ حملہ—جرائم پیشہ افراد کا دھاوا، انچارج شہید

قلعہ عبداللہ لیویز پوسٹ حملہ اور شہید ہونے والے انچارج کی خبر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

قلعہ عبداللہ لیویز پوسٹ حملہ: ملزمان فرار، آپریشن تیز

قلعہ عبداللہ لیویز پوسٹ حملہ—جرائم پیشہ عناصر کی فائرنگ سے انچارج شہید

بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر سنگین ہو گئی جب گزشتہ روز قلعہ عبداللہ لیویز پوسٹ حملہ کے دوران جرائم پیشہ افراد نے لیویز فورس پر اچانک فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں پوسٹ انچارج شہید ہو گئے جبکہ ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے نے علاقے میں خوف کی نئی لہر دوڑا دی اور حکام نے فوری آپریشن کا آغاز کر دیا۔

حملے کا پس منظر — کوئٹہ چمن شاہراہ پر لوٹ مار

ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب جرائم پیشہ افراد کوئٹہ چمن شاہراہ پر لوٹ مار میں مصروف تھے۔ اسی دوران انہوں نے ایک وین چھیننے کی کوشش کی، مگر لیویز فورس نے بہادری سے مزاحمت کرتے ہوئے یہ کوشش ناکام بنا دی۔

لیویز اہلکاروں کی مداخلت کے بعد ملزمان نے غصے میں آ کر قلعہ عبداللہ لیویز پوسٹ حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں پوسٹ انچارج گولی لگنے سے موقع پر شہید ہو گئے۔ حملہ انتہائی اچانک اور شدت سے کیا گیا تھا، جس سے فورس کو سنبھلنے میں وقت لگا۔

ملزمان کی جانب سے فائرنگ کے بعد فرار — گاڑی چھوڑ کر بھاگ نکلے

ڈی سی قلعہ عبداللہ کے مطابق حملے کے بعد جرائم پیشہ افراد اپنی ایک گاڑی وہیں چھوڑ کر پہاڑوں کی طرف فرار ہو گئے۔ بعد ازاں مقامی لوگوں نے ملزمان کی گاڑی کو آگ لگا دی۔ یہ گاڑی اس گروہ کے استعمال میں تھی جو کافی عرصے سے اس علاقے میں وارداتیں کر رہا تھا۔

سرغنہ فقیر محمد — ایک خطرناک مجرم

ڈی پی او قلعہ عبداللہ کے مطابق ملزمان کا سرغنہ فقیر محمد ہے جو:

  • 15 سے زائد قتل کیسز میں مطلوب
  • لیویز اور پولیس پر متعدد حملوں میں ملوث
  • پہاڑی علاقوں میں پناہ گاہیں قائم کیے ہوئے
  • ایک خطرناک منظم گروہ کا سرغنہ ہے

فقیر محمد کا گروہ کئی عرصے سے سیکیورٹی فورسز کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ اسی گروہ نے قلعہ عبداللہ لیویز پوسٹ حملہ کیا، جس نے خطے کی امن و امان کی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔

پہاڑی علاقوں میں آپریشن — زندہ یا مردہ گرفتاری کا حکم

ڈی پی او کے مطابق جرائم پیشہ افراد کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے:

  • قریبی پہاڑی سلسلوں کا محاصرہ
  • تمام راستے سیل
  • مشتبہ پناہ گاہوں پر چھاپے

ڈالنا شروع کر دیئے ہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ سرغنہ فقیر محمد کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے کا حکم جاری ہے۔

لیویز اور پولیس کی مشترکہ ٹیمیں علاقے میں انتہائی احتیاط سے پیش قدمی کر رہی ہیں کیونکہ ملزمان کے پاس جدید اسلحہ موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔

علاقے میں خوف و ہراس — عوام پریشان

حملے کے بعد علاقے کے لوگوں میں شدید خوف پیدا ہوگیا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق:

  • شاہراہِ چمن پہلے ہی خطرناک
  • جرائم پیشہ گروہ مسافروں کو لوٹنے میں سرگرم
  • لیویز اہلکاروں پر حملہ صورتحال مزید خراب

عوام کا کہنا ہے کہ قلعہ عبداللہ لیویز پوسٹ حملہ نے ثابت کردیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر مزید بے خوف ہو چکے ہیں اور ان کے خلاف موثر کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔

حکومتی ردعمل — دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس

ضلعی حکام نے واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ:

  • ہر قیمت پر مجرموں کو پکڑا جائے گا
  • شہید اہلکار کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی
  • شاہراہ پر فورسز کی نفری بڑھا دی گئی ہے
  • چیک پوسٹوں پر سخت نگرانی جاری ہے

بلوچستان حکومت نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قلعہ عبداللہ لیویز پوسٹ حملہ ملکی سلامتی پر حملہ ہے۔

لیویز اہلکار کی شہادت — ایک اور بہادر سپاہی وطن پر قربان

شہید ہونے والے پوسٹ انچارج کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔ لیویز حکام کا کہنا ہے کہ شہید اہلکار نے حملے کے دوران نہ صرف مزاحمت کی بلکہ کئی شہریوں کی جان بھی بچائی۔

انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا:

"یہ قوم اپنے شہیدوں کی قربانیوں کی بدولت ہی محفوظ ہے۔”

قلعہ عبداللہ لیویز پوسٹ حملہ — مستقبل کے لیے کیا اقدامات ضروری؟

علاقے میں امن بحال کرنے کے لیے ضروری اقدامات میں شامل ہیں:

  1. شاہراہ پر فورسز کی تعداد مزید بڑھانا
  2. جرائم پیشہ گروہوں کی مستقل نگرانی
  3. پہاڑی علاقوں میں مستقل چیکنگ پوائنٹس
  4. جدید اسلحہ اور کمیونیکیشن نظام
  5. عوام کو مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دینے کی ہدایات

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں ایسے مزید حملے ہو سکتے ہیں۔

حملہ ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج

قلعہ عبداللہ جیسے علاقوں میں مجرموں کے مضبوط نیٹ ورک سیکیورٹی فورسز کے لیے بڑی چیلنج ہیں۔
اس بار ہونے والا قلعہ عبداللہ لیویز پوسٹ حملہ ایک سنگین انتباہ ہے کہ جرائم پیشہ عناصر منظم ہو رہے ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔

خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، بھارت نواز فتنۃ الخوارج کے 23 دہشتگرد ہلاک

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]