برائلر گوشت کی قیمت برقرار مگر اوور چارجنگ جاری، لاہور کے شہری متاثر

برائلر گوشت کی قیمت میں اوور چارجنگ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

لاہور میں برائلر گوشت سرکاری نرخ سے مہنگا فروخت، انتظامیہ خاموش

لاہور سمیت مختلف شہروں میں برائلر گوشت کی قیمت بظاہر برقرار دکھائی دیتی ہے، تاہم عملی طور پر سرکاری نرخوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے۔ حکومتی دعوؤں اور سرکاری نرخ ناموں کے باوجود مارکیٹ میں اوور چارجنگ کا سلسلہ تھم نہ سکا، جس کے باعث مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ برائلر گوشت جو کہ متوسط اور غریب طبقے کے لیے پروٹین کا سب سے سستا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اب عام آدمی کی پہنچ سے آہستہ آہستہ دور ہوتا جا رہا ہے۔

سرکاری نرخ نامے کے مطابق برائلر گوشت کی قیمت 595 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، مگر لاہور کے مختلف علاقوں میں یہ گوشت 650 سے 750 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ کہیں چھوٹا گوشت اور کہیں بڑے سائز کے نام پر اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی صارف سرکاری نرخ کا مطالبہ کرے تو دکاندار صاف انکار کر دیتے ہیں یا پھر گوشت دینے سے ہی منع کر دیتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں برائلر مرغی کا فارم گیٹ زندہ ریٹ 383 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ برائلر زندہ مرغی کا تھوک ریٹ 397 روپے فی کلو اور پرچون ریٹ 411 روپے فی کلو طے کیا گیا ہے۔ ان نرخوں کے باوجود مارکیٹ میں برائلر گوشت کی قیمتیں سرکاری فہرست سے کہیں زیادہ وصول کی جا رہی ہیں، جو ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے صرف کاغذی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ چند دکانوں پر نمائشی چھاپوں کے علاوہ عملی طور پر کوئی مؤثر اقدام نظر نہیں آتا۔ بازاروں میں سرکاری نرخ نامے یا تو آویزاں ہی نہیں کیے گئے یا پھر انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ دکاندار من مانی قیمتیں وصول کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر سرکاری نرخ پر گوشت فروخت کیا جائے تو نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب فارمی انڈوں کی قیمتیں بھی عوام کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ سرکاری طور پر فارمی انڈوں کی قیمت 321 روپے فی درجن مقرر کی گئی ہے، جبکہ انڈوں کی ایک پیٹی (30 درجن) کا تھوک ریٹ 9 ہزار 510 روپے طے کیا گیا ہے۔ تاہم عملی طور پر مختلف علاقوں میں انڈے 340 سے 380 روپے فی درجن تک فروخت ہو رہے ہیں۔ بعض مقامات پر تو قیمت 400 روپے فی درجن کو بھی چھو رہی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ انڈے جو کبھی غریب آدمی کے لیے سستا غذائی متبادل تھے، اب وہ بھی مہنگائی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ خاص طور پر بچوں، مریضوں اور بزرگوں کے لیے انڈوں کا استعمال ناگزیر ہوتا ہے، مگر بڑھتی قیمتوں نے ان کی خریداری کو مشکل بنا دیا ہے۔

دکانداروں کا مؤقف ہے کہ فیڈ، بجلی، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات میں اضافے کے باعث وہ سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت واقعی قیمتوں کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے تو پیداواری لاگت میں کمی کے لیے عملی اقدامات کرے۔ تاہم عوام اس مؤقف کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی کا سارا بوجھ صرف صارفین پر ڈال دیا گیا ہے۔

لاہور کے مختلف علاقوں مثلاً شادمان، گلبرگ، سبزہ زار، اچھرہ، ٹاؤن شپ اور ڈیفنس میں صارفین نے شکایات کی ہیں کہ برائلر گوشت اور انڈے سرکاری نرخوں پر دستیاب نہیں۔ کئی شہریوں نے کہا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر پرائس کنٹرول ہیلپ لائن پر شکایات درج کرواتے ہیں، مگر عملی طور پر کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔

ماہرین معاشیات کے مطابق اگر حکومت نے قیمتوں پر کنٹرول کے نظام کو مؤثر نہ بنایا تو مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اشیائے خورونوش بالخصوص گوشت اور انڈوں کی قیمتوں میں استحکام عوامی فلاح کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہ براہ راست عوام کی غذائی ضروریات سے جڑی ہوئی ہیں۔

سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو متحرک کرے، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور سرکاری نرخ ناموں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہریوں میں بھی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ سرکاری نرخوں سے آگاہ رہیں اور اوور چارجنگ کی صورت میں آواز اٹھا سکیں۔

آخر میں شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ برائلر گوشت اور انڈوں کی قیمتوں پر فوری کنٹرول کیا جائے، تاکہ عام آدمی کو کچھ ریلیف مل سکے اور وہ باعزت طریقے سے اپنی روزمرہ غذائی ضروریات پوری کر سکے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]