بیرسٹر گوہر بیان، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورہ سندھ پر اہم مؤقف
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے سندھ حکومت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے دورۂ سندھ کا آج آخری دن ہے، اس لیے صوبائی حکومت کسی بھی قسم کی بدمزگی پیدا کرنے سے گریز کرے اور موجودہ مثبت ماحول کو برقرار رہنے دے۔ اُنہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود جمہوری روایات اور آئینی حدود کا احترام کیا جانا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پیر کے روز سندھ سے واپس روانہ ہوں گے، لہٰذا سندھ حکومت کو چاہیے کہ آخری دن کسی غیر ضروری اقدام سے حالات کو کشیدہ نہ کرے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر سیاست کی ہے اور موجودہ جلسہ بھی مکمل طور پر پرامن، جمہوری اور قانونی تقاضوں کے مطابق منعقد کیا جائے گا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ کراچی میں ہونے والا جلسہ کسی فرد، ادارے یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ عوام کے بنیادی، آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ایک پُرامن سیاسی اجتماع ہوگا جس کا مقصد عوامی آواز کو جمہوری انداز میں اجاگر کرنا ہے، نہ کہ تصادم یا انتشار پیدا کرنا۔
بیرسٹر گوہر نے سندھ حکومت اور انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ جلسے کے انعقاد میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے عوام کے آئینی حقِ اجتماع کو تسلیم کرے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے کو طاقت یا دباؤ سے نہیں بلکہ مکالمے اور برداشت سے حل کیا جاتا ہے۔
اُنہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد سے کراچی واپسی کے دوران ان کا راستہ روکا گیا، اور جان بوجھ کر انہیں ویران اور غیر محفوظ راستوں پر دھکیلا گیا، جو ایک منتخب وزیراعلیٰ کے ساتھ نامناسب اور غیر جمہوری رویہ ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف سیاسی تلخی کو بڑھاتے ہیں بلکہ وفاقی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ان کی جماعت نے گزشتہ عرصے میں بہت زیادہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، مگر ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ اُنہوں نے سندھ حکومت سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر ہم نے طویل عرصہ برداشت کیا ہے تو آپ بھی کم از کم ایک دن صبر کا مظاہرہ کر لیں اور حالات کو خراب نہ کریں۔
بیرسٹر گوہر نے کراچی کے عوام سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے نمائندوں اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو مایوس نہ کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ کراچی ہمیشہ سے سیاسی شعور، جمہوری جدوجہد اور عوامی طاقت کی علامت رہا ہے، اور انہیں امید ہے کہ کراچی کے عوام جلسے میں بھرپور شرکت کر کے اپنے جمہوری کردار کا ثبوت دیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا پیغام عوامی حقوق، آئین کی بالادستی اور حقیقی جمہوریت کے قیام پر مبنی ہے، اور یہ جلسہ اسی جدوجہد کا تسلسل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود ملک میں جمہوری فضا کو برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب یہ بھی یاد رہے کہ کراچی کے ڈپٹی کمشنر ایسٹ کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کو باغ جناح میں جلسے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ تاہم، اس اجازت کے باوجود پی ٹی آئی نے مزارِ قائد کے گیٹ پر جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا ہے، جس پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جلسے کے مقام اور سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے قانون کے مطابق اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ ہر صورت قانون کی پاسداری کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کراچی میں جلسے کے مقام کا تنازع محض انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ یہ صوبائی حکومت اور اپوزیشن جماعت کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں فریق تحمل اور مکالمے کا راستہ اختیار کریں تو صورتحال کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکتا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جلسے کے انعقاد کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا، مہنگائی، بے روزگاری اور بدانتظامی پر آواز اٹھانا ہے۔ اُن کے مطابق یہ ایک آئینی اور جمہوری حق ہے جسے کسی بھی صورت دبایا نہیں جانا چاہیے۔
مختصراً، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا بیان موجودہ سیاسی حالات میں تحمل، برداشت اور جمہوری رویے کی اپیل پر مبنی ہے۔ کراچی میں جلسے کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ مجموعی سیاسی ماحول کے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر تمام فریقین قانون، آئین اور جمہوری اقدار کے مطابق رویہ اختیار کریں تو نہ صرف یہ جلسہ پُرامن انداز میں منعقد ہو سکتا ہے بلکہ ملک میں سیاسی استحکام کی جانب بھی ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔


One Response