لیسکو نیٹ میٹرنگ ٹیرف نافذ، سولر صارفین کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کریڈٹ

لیسکو نیٹ میٹرنگ ٹیرف 25 روپے 32 پیسے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

لیسکو نے نیٹ میٹرنگ پراجیکٹ کے تحت صارفین سے بجلی کی خریداری کا نیا ٹیرف نافذ کر دیا

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے نیٹ میٹرنگ پراجیکٹ کے تحت سولر صارفین سے بجلی کی خریداری کے لیے نیا ٹیرف نافذ کر دیا ہے، جس کے بعد بجلی پیدا کرنے والے صارفین کو ایکسپورٹ کیے گئے یونٹس پر کم قیمت پر کریڈٹ دیا جائے گا۔ اس اقدام کا اطلاق نیپرا کی جانب سے منظور شدہ نظرثانی شدہ ٹیرف پالیسی کے مطابق کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد بجلی کے شعبے میں مالی توازن کو بہتر بنانا اور قومی گرڈ پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنا ہے۔

لیسکو کے ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اس حوالے سے کسٹمر سروسز ڈائریکٹر کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کر دیا ہے، جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت صارفین کو اب پچیس روپے بتیس پیسے فی یونٹ کے حساب سے کریڈٹ دیا جائے۔ اس مراسلے کے بعد لیسکو نے تمام متعلقہ دفاتر کو نئے ٹیرف کے مطابق بلنگ سسٹم اپ ڈیٹ کرنے اور فوری عملدرآمد کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

لیسکو حکام کے مطابق رواں ماہ سے ہی صارفین کی جانب سے نیشنل گرڈ کو ایکسپورٹ کی جانے والی بجلی پر 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے حساب سے کریڈٹ دیا جائے گا۔ اس سے قبل نیٹ میٹرنگ صارفین کو بجلی کی خریداری کے عوض نسبتاً زیادہ نرخ پر ادائیگی یا کریڈٹ دیا جا رہا تھا، تاہم نیپرا کی تازہ پالیسی کے تحت اس میں کمی کی گئی ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے حالیہ دنوں میں سولر نیٹ میٹرنگ صارفین سے بجلی خریدنے کے نرخ میں مزید کمی کی منظوری دی تھی۔ اس فیصلے کے بعد نیپرا نے لیسکو سمیت ملک بھر کی تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو باضابطہ مراسلے ارسال کیے، جن میں نئے ٹیرف پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کی گئی تھی۔ لیسکو نے نیپرا کی ہدایات کے مطابق نئے ٹیرف کا نفاذ شروع کر دیا ہے۔

ماہرین توانائی کے مطابق اس فیصلے کا مقصد بجلی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کو کنٹرول کرنا اور نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے مالی دباؤ کو کم کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں سولر سسٹمز کی تنصیب میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو ایکسپورٹ ہونے والے یونٹس کے بدلے بھاری مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔

لیسکو حکام کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی میں یہ تبدیلی کسی بھی صارف کے سولر سسٹم کو متاثر نہیں کرے گی، بلکہ صرف بجلی کی خریداری کے نرخ میں نظرثانی کی گئی ہے۔ صارفین اپنی پیدا کردہ بجلی بدستور نیشنل گرڈ کو فراہم کر سکیں گے، تاہم اب انہیں کم نرخ پر کریڈٹ ملے گا۔ کمپنی کے مطابق یہ اقدام طویل المدتی بنیادوں پر بجلی کے نظام کو مستحکم بنانے کے لیے ضروری تھا۔

دوسری جانب سولر صارفین کی جانب سے اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ کم ٹیرف سے سولر سسٹمز میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے، کیونکہ گھریلو اور کمرشل صارفین نے بھاری لاگت سے سولر سسٹمز نصب کیے ہیں۔ ان کے مطابق اگر بجلی کی خریداری کی قیمت کم ہوتی رہی تو سرمایہ کاری کی واپسی کا دورانیہ مزید طویل ہو جائے گا۔

تاہم حکومتی اور ریگولیٹری اداروں کا مؤقف ہے کہ سولر توانائی کا فروغ بدستور حکومتی ترجیح ہے، لیکن بجلی کی خریداری کے نرخ حقیقت پسندانہ بنیادوں پر طے کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ نیپرا کے مطابق سولر پینلز اور متعلقہ آلات کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ چکی ہے، جس کے پیش نظر نیٹ میٹرنگ ٹیرف میں کمی کا فیصلہ کیا گیا۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں نیٹ میٹرنگ پالیسی میں مزید اصلاحات متوقع ہیں، جن میں ٹائم آف یوز (TOU) ریٹس، بیٹری اسٹوریج کے استعمال اور نیٹ بلنگ جیسے متبادل ماڈلز شامل ہو سکتے ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد بجلی کی پیداوار اور کھپت میں توازن پیدا کرنا اور قومی گرڈ کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

لیسکو انتظامیہ کے مطابق صارفین کو نئے ٹیرف سے متعلق مکمل آگاہی فراہم کی جا رہی ہے اور بلنگ کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ کسی بھی قسم کی شکایت کی صورت میں صارفین لیسکو کے کسٹمر سروس سینٹرز سے رجوع کر سکتے ہیں۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی کی خریداری کے نئے ٹیرف کا نفاذ توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگرچہ اس فیصلے سے سولر صارفین کو مالی طور پر کچھ دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم مجموعی طور پر یہ اقدام بجلی کے نظام کی بہتری، مالی استحکام اور پائیدار توانائی پالیسی کی جانب ایک قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]