لیسکو کا بڑا اقدام: 6 ماہ میں ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد نئے بجلی کنکشن فراہم
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ، یعنی جولائی سے دسمبر کے دوران بجلی کی فراہمی کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے ایک لاکھ 24 ہزار 437 نئے بجلی کنکشنز فراہم کر دیے ہیں۔ یہ اعداد و شمار لیسکو کی جانب سے جاری کردہ کارکردگی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جو نہ صرف ادارے کی انتظامی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب اور صارفین کے اعتماد کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔
لیسکو کے مطابق فراہم کیے گئے نئے کنکشنز میں سب سے زیادہ تعداد گھریلو صارفین کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ 19 ہزار 511 گھریلو کنکشنز دیے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ شہری آبادی میں اضافہ اور رہائشی سرگرمیوں میں تیزی کے باعث بجلی کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس کے علاوہ 4 ہزار 224 کمرشل کنکشنز فراہم کیے گئے، جو تجارتی سرگرمیوں میں اضافے اور کاروباری شعبے کی بحالی کی نشاندہی کرتے ہیں، جبکہ 605 صنعتی کنکشنز کی فراہمی صنعتی شعبے میں بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔
لیسکو کی جانب سے زرعی شعبے کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران 92 ٹیوب ویل کنکشنز فراہم کیے گئے، جو زرعی پیداوار میں اضافے اور کسانوں کو سہولت فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویلز نہ صرف آبپاشی کے اخراجات میں کمی کا باعث بنتے ہیں بلکہ زیر زمین پانی کے بہتر استعمال میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔
لیسکو کے دائرہ اختیار میں نیٹ میٹرنگ کے شعبے میں بھی غیر معمولی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ ادارے کے مطابق اب تک ایک لاکھ 29 ہزار 979 نیٹ میٹرنگ کنکشنز کامیابی سے نصب کیے جا چکے ہیں۔ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین کو یہ سہولت حاصل ہوتی ہے کہ وہ شمسی توانائی کے ذریعے پیدا ہونے والی اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر سکیں، جس کے بدلے انہیں مالی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے۔
لیسکو کے مطابق نیٹ میٹرنگ منصوبوں کے نتیجے میں تقریباً 1,900 میگاواٹ سولر فوٹو وولٹک (PV) صلاحیت نیشنل گرڈ میں شامل ہو چکی ہے۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق یہ ایک نہایت اہم پیش رفت ہے، کیونکہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں توانائی کا بحران ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے، وہاں شمسی توانائی جیسے قابلِ تجدید ذرائع مستقبل کی ضروریات پوری کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر لیسکو محمد رمضان بٹ نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ نیٹ میٹرنگ صاف، سستی اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیسکو نہ صرف بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے بلکہ ماحول دوست توانائی کے فروغ کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے صارفین نہ صرف اپنی بجلی کی ضروریات پوری کر رہے ہیں بلکہ قومی سطح پر توانائی کے بوجھ کو کم کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
محمد رمضان بٹ نے مزید کہا کہ لیسکو صارفین کو شفاف، بروقت اور قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کے مطابق ادارہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، نظام کی بہتری اور صارف دوست پالیسیوں کے ذریعے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو مزید مؤثر بنا رہا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صارفین کی شکایات کے ازالے، میٹرنگ کے شفاف نظام اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ لیسکو کی جانب سے نئے کنکشنز کی فراہمی اور نیٹ میٹرنگ میں تیزی اس بات کا عندیہ ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اب جدید تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر اسی رفتار سے نیٹ میٹرنگ اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے آگے بڑھتے رہے تو آئندہ چند برسوں میں پاکستان توانائی کے بحران پر کسی حد تک قابو پا سکتا ہے۔
صارفین کی جانب سے بھی لیسکو کی اس کارکردگی کو مجموعی طور پر مثبت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل اب بھی توجہ کے متقاضی ہیں۔ ان کے مطابق نئے کنکشنز کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں استحکام اور ترسیلی نظام میں بہتری لائی جائے تاکہ صارفین کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جولائی تا دسمبر کے دوران لیسکو کی جانب سے ایک لاکھ سے زائد نئے بجلی کنکشنز کی فراہمی اور نیٹ میٹرنگ کے شعبے میں نمایاں پیش رفت ادارے کی کارکردگی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں بلکہ ملک میں صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کی جانب بھی ایک اہم قدم ہیں۔ آنے والے دنوں میں اگر لیسکو اسی تسلسل کے ساتھ اپنی کارکردگی کو بہتر بناتا رہا تو توانائی کے شعبے میں مثبت تبدیلیوں کی توقع کی جا سکتی ہے۔

