لاہور ہائیکورٹ کا بسنت آرڈیننس پر عبوری حکم سے انکار، سیفٹی ریگولیشنز پر جواب طلب
لاہور ہائیکورٹ میں بسنت اور پتنگ بازی سے متعلق جاری بحث میں اُس وقت ایک اہم موڑ آیا جب عدالت نے حکومت پنجاب کے جاری کردہ آرڈیننس پر فوری طور پر عمل درآمد روکنے کی درخواست مسترد کردی۔ فاضل عدالت نے واضح کیا کہ انسانی جانوں کا تحفظ سب سے مقدم ہے، اس لیے معاملے پر جلد بازی میں کوئی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ مجاز افسر سے ہدایات لے کر 22 دسمبر تک رپورٹ پیش کریں تاکہ کیس کے تمام پہلوؤں کو قانون اور حقائق کی روشنی میں دیکھا جا سکے۔
یہ سماعت جسٹس ملک اویس خالد کی عدالت میں ہوئی، جہاں جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے دائر درخواست پر غور کیا گیا۔ درخواست گزار کی نمائندگی معروف قانون دان اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کی، جنہوں نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے بسنت کے انعقاد کے لیے جاری آرڈیننس مناسب آئینی عمل کے بغیر جاری کیا ہے، اور یہ کہ صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران آرڈیننس جاری کرنا قانون کے منافی ہے۔
پتنگ بازی کی روایت اور سیفٹی کے تقاضے — عدالت کے اہم مشاہدات
سماعت کے دوران جسٹس ملک اویس خالد نے پتنگ بازی اور بسنت کے پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے نہایت اہم ریمارکس دیے۔ انہوں نے کہا کہ پتنگ بازی کوئی نئی چیز نہیں بلکہ اس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ ان کے مطابق:
“پتنگ بازی چین میں اڑھائی ہزار سال پہلے شروع ہوئی۔ آج یہ دنیا کے مختلف حصوں میں رائج ہے اور لوگ اسے ایک تہذیبی کھیل کے طور پر مناتے ہیں، مگر سب جگہ سیفٹی سب سے اہم سمجھی جاتی ہے۔”
فاضل جج نے مزید کہا کہ مسئلہ پتنگ بازی کا نہیں بلکہ اس سے وابستہ خطرات کا ہے، اور ریاست کا فرض ہے کہ شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے ایک ایسا عملی اور مضبوط سیفٹی فریم ورک تشکیل دے جس میں حادثات نہ ہوں اور کھیل بھی محفوظ ماحول میں جاری رہ سکے۔
وکیل درخواست گزار کے دلائل
اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ:
چین اور جاپان جیسے ممالک میں خطرناک دھاتی ڈوریں تیار نہیں ہوتیں۔
وہاں پتنگ بازی ایک منظم اور محفوظ سرگرمی ہے جہاں نہ ڈور جان لیوا ہوتی ہے اور نہ ہی لوگ غیر ذمہ دارانہ طور پر مقابلے بازی کرتے ہیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں خاص طور پر لاہور اور پنجاب کے متعدد علاقوں میں پچھلے برسوں میں بسنت کے دوران کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں موٹر سائیکل سوار، بچے اور راہگیر شامل ہیں۔ ان کے مطابق:
“بسنت اور پتنگ بازی سے ہونے والے جانی نقصان کے پیش نظر حکومت کو اس معاملے میں سخت اور جامع قانون سازی کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ آرڈیننس کے ذریعے عجلت میں فیصلے کیے جائیں۔”
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ بسنت آرڈیننس کو کالعدم قرار دیا جائے اور حتمی فیصلے تک اس پر عمل درآمد روک دیا جائے۔
عدالت کے سوالات — سیفٹی کا نظام کیسے ریگولیٹ ہوگا؟
سماعت کے دوران ایک اہم موڑ اُس وقت آیا جب جسٹس ملک اویس خالد نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا:
“آپ یہ بتائیں کہ سیفٹی کو ریگولیٹ کیسے کریں گے؟ سیفٹی کا ذمہ دار کون ہوگا؟”
یہ سوال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالت آرڈیننس کی قانونی حیثیت سے زیادہ اس بات میں دلچسپی رکھتی ہے کہ حکومت ایسے واقعات کو کیسے روکے گی جنہوں نے بسنت کو ایک خطرناک سرگرمی بنا دیا ہے۔
سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اس بارے میں حکومت سے مزید ہدایات درکار ہیں اور عدالت سے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی۔ عدالت نے مہلت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس بارے میں واضح اور جامع رپورٹ پیش کرے تاکہ عدالت مناسب فیصلہ کر سکے۔
بسنت — ایک تہوار، ایک روایت، مگر انسانی جان کا مقدم سوال
پاکستان میں خاص طور پر لاہور کی تاریخ میں بسنت کو ایک رنگا رنگ تہوار کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ پرانے لاہور کی چھتوں پر سجنے والا یہ تہوار کئی دہائیوں تک ثقافتی پہچان کے طور پر منایا جاتا رہا۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، دھاتی، کیمیکل اور "مانجھا” ڈوروں کے استعمال نے اس کھیل کو خطرناک بنا دیا۔ 2000 کی دہائی کے وسط میں درجنوں ہلاکتوں کے بعد حکومت نے بسنت پر پابندی عائد کردی جو کئی برسوں تک برقرار رہی۔
پچھلے چند برسوں میں مختلف حکومتی ادوار نے بسنت کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی، مگر ہر بار سیفٹی کے تقاضے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محدود صلاحیت اور ماضی کے تلخ حادثات راہ میں رکاوٹ بنے۔
درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو یہی مؤقف دیا گیا کہ:
- جب تک مضبوط حفاظتی نظام نہیں بنایا جاتا،
- مارکیٹ میں خطرناک ڈور کی تیاری اور فروخت مکمل طور پر بند نہیں ہوتی،
- اور جب تک حکومت شہریوں کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتی،
تب تک بسنت یا پتنگ بازی کے تہوار کی اجازت دینا شہریوں کی جانوں کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔
عدالتی کارروائی کا آئندہ مرحلہ
عدالت نے سرکاری وکیل کو حکم دیا کہ وہ حکومت کے متعلقہ افسر سے مشاورت کرکے جامع رپورٹ پیش کریں جس میں واضح کیا جائے:
- بسنت کے دوران سیفٹی کیسے یقینی بنائی جائے گی؟
- آرڈیننس کیوں جاری کیا گیا اور اس کی قانونی بنیاد کیا ہے؟
- کیا حکومت کے پاس ایسا کوئی فعال نظام موجود ہے جو ڈور اور پتنگوں کی تیاری، فروخت اور استعمال کو محفوظ بنائے؟
- عدالت نے واضح کیا کہ فیصلے سے پہلے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔
اس سماعت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ لاہور ہائیکورٹ انسانی جانوں کے تحفظ کو ہر بحث سے زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ اگرچہ عدالت نے آرڈیننس پر فوری عمل درآمد روکنے کی درخواست مسترد کردی، مگر حکومت سے سیفٹی فریم ورک پر وضاحت طلب کرکے یہ اشارہ بھی دیا کہ ریاست کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
اب نظر 22 دسمبر پر ہے، جب سرکاری رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی، جو اس اہم اور حساس معاملے کی آئندہ سمت کا تعین کرے گی۔

