ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ گھریلو بجٹ پر ایک اور بھاری بوجھ
پاکستان میں مہنگائی کی بڑھتی ہوئی لہر نے عوام کی روزمرہ زندگی کو پہلے ہی مشکل بنا رکھا ہے، اور اب اوگرا کی جانب سے ایک اور جھٹکا سامنے آیا ہے۔ ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس نے گھریلو صارفین کے لیے مزید مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ روزمرہ زندگی کی ہر شے جیسے آٹا، چینی، بجلی، گیس اور اب ایل پی جی بھی عوام کے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری تازہ نوٹیفکیشن کے مطابق 11.8 کلو کے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 87 روپے 21 پیسے کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جب کہ فی کلو قیمت 7 روپے 39 پیسے بڑھائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب نئی قیمت 208 روپے 99 پیسے فی کلو جبکہ گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 2466 روپے 10 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ اس اعلان کے بعد ملک بھر میں معمول کی گھریلو ضروریات پوری کرنا اور زیادہ دشوار ہوگیا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کی وجہ کیا ہے؟
اوگرا کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی لاگت میں اضافہ اس نئے فیصلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ عالمی توانائی بحران نے پاکستان جیسے درآمدی انحصار والے ممالک کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہانہ بنیادوں پر ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ ایک معمول بن چکا ہے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ایل پی جی عام صارف کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے، خصوصاً دیہی علاقوں، پہاڑی علاقوں اور ان گھروں میں جہاں قدرتی گیس دستیاب نہیں۔ اسی لیے جب بھی ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، سب سے زیادہ متاثر عام آدمی ہوتا ہے۔
گھریلو صارفین پر اثرات بڑھتا ہوا بوجھ
پاکستان میں گیس بحران کئی برسوں سے برقرار ہے۔ سردیوں میں لوڈشیڈنگ، کم پریشر اور لائنوں کا مسئلہ عام ہوتا ہے۔ لاکھوں گھرانے کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں، ایسے میں ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ ان کے ماہانہ بجٹ کو بری طرح ہلا کر رکھ دیتا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ:
اب کھانا پکانا بھی مہنگا ہو گیا ہے
سلنڈر بار بار بھرنے کی استطاعت کم ہوتی جا رہی ہے
تنخواہیں وہیں کھڑی ہیں لیکن اخراجات کئی گنا بڑھ گئے ہیں
گھریلو خواتین بجٹ میں توازن قائم کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں
یہ صورتحال اس وقت مزید خراب ہو جاتی ہے جب ایک ہی مہینے میں کئی بار قیمتوں میں تبدیلی کی جاتی ہے۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کا مؤقف
مارکیٹ میں ایل پی جی کے ڈیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز کا کہنا ہے کہ:
بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں غیر مستحکم ہیں
ڈالر نرخوں میں اتار چڑھاؤ بھی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے
حکومت کی جانب سے ٹیکس اور ڈیوٹی بھی بڑھ چکی ہے
انہوں نے مزید کہا کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو آئندہ ماہ بھی ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
عوامی ردعمل—مایوسی، غصہ اور بے بسی
جب بھی ایل پی جی مہنگی ہوتی ہے، عوام میں شدید ردعمل سامنے آتا ہے۔ لوگ سوشل میڈیا اور نیوز چینلز پر کھل کر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہیں۔
اکثر لوگوں کا کہنا ہے:
“بھلا بتائیں، ہم جائیں تو جائیں کہاں؟ بجلی مہنگی، گیس مہنگی، پٹرول مہنگا، اب ایل پی جی بھی مہنگی۔ مہینے کے آخر میں پیسے ہی نہیں بچتے!”
یہ جملہ آج ہر دوسرے گھر کی حالت کی عکاسی کرتا ہے۔
توانائی کے متبادل ذرائع—کیا حل موجود ہے؟
پاکستان میں توانائی کا کوئی بھی مستحکم متبادل موجود نہیں۔ نہ شمسی توانائی عام ہے، نہ بائیو گیس عام صارف کی پہنچ میں۔ اسی لیے جب بھی ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، لوگ مجبوراً زیادہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق:
حکومت کو مقامی ایل پی جی پیداوار بڑھانی چاہیے
درآمدی اخراجات کم کرنے کے لیے پالیسیاں بنانا ضروری ہے
گھریلو صارفین کے لیے سبسڈی دوبارہ شروع ہونی چاہیے
سلیب ریٹ کم کیے جائیں
یہ سب تجاویز اچھی ہیں، مگر جب تک عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، عوامی مشکلات برقرار رہیں گی۔
نومبر میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 6.1 فیصد پر آگئی
آگے کیا ہوگا؟
اوگرا نے واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ فوری طور پر نافذ العمل ہے، اور اگر عالمی مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ آیا تو آئندہ مہینوں میں پھر تبدیلی ہو سکتی ہے۔
یہ بات یقینی ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ پاکستانی عوام کے لیے ایک مستقل دردِ سر بن جائے گا۔
One Response