تیل کمپنیوں کے مطالبات شدت اختیار کرگئے، پیٹرول پمپس منافع اضافہ کا امکان بڑھ گیا

پیٹرول پمپس منافع اضافہ سے متعلق اوگرا کی نئی تجویز کی تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اوگرا کی سفارش پیٹرول پمپس منافع اضافہ کی تجویز پر بڑا فیصلہ متوقع

ملک میں ایک بار پھر پیٹرولیم شعبہ نمایاں بحث کا مرکز بن چکا ہے، اور اس مرتبہ وجہ بنی ہے پیٹرول پمپس منافع اضافہ کی وہ نئی تجویز جو اوگرا نے حکومت کو بھجوائی ہے۔ معاشی عدم استحکام، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی اخراجات میں اضافے کے باعث بار بار سامنے آنے والی ایسی تجاویز عوام میں بے چینی کا باعث بنتی ہیں۔ لیکن اس بار معاملہ پہلے سے زیادہ حساس ہے کیونکہ پیٹرول پمپس منافع اضافہ براہِ راست صارفین کی روزمرہ زندگی، ٹرانسپورٹ لاگت اور مہنگائی پر اثر ڈال سکتا ہے۔

اوگرا کی سفارشات کے بعد وزارتِ پیٹرولیم نے آج شام ایک اہم اجلاس طلب کرلیا ہے، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو دعوت دی گئی ہے۔ اس اجلاس میں پیٹرول پمپس منافع اضافہ کے حوالے سے ممکنہ فیصلوں، نئی شرحوں اور ان کے اثرات پر مکمل بحث کی جائے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق کوشش ہوگی کہ متفقہ فیصلہ سامنے آئے تاکہ بعد میں کوئی فریق اعتراض نہ کرے۔

اوگرا کی سفارشات — کمپنیوں کے منافع میں نمایاں اضافہ

دستاویزات کے مطابق اوگرا نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن میں 1 روپے 35 پیسے اضافے کی تجویز دی ہے، جبکہ پیٹرول پمپ ڈیلرز کے لیے 1 روپے 40 پیسے اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو پیٹرول پمپس منافع اضافہ کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ ناگزیر ہوگا۔

یہاں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ آئل کمپنی ایڈوائزری کونسل نے کمپنیوں کا مارجن 2 روپے 13 پیسے بڑھانے کا مطالبہ دہرایا ہے، جبکہ آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ مارجن 16 روپے فی لیٹر کر دیا جائے۔ اس قدر بڑے مطالبات نے عوام میں تشویش پیدا کردی ہے، کیونکہ کسی بھی قسم کا پیٹرول پمپس منافع اضافہ آخرکار صارفین کی جیب پر اثر انداز ہوتا ہے۔

پیٹرول پمپس ایسوسی ایشن کا مؤقف — کاروباری لاگت میں اضافہ

پیٹرول پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ بجلی، تنخواہوں، سیکیورٹی اور آپریشنل اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اگر پیٹرول پمپس منافع اضافہ نہ ہوا تو بیشتر پمپ کاروبار جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ کچھ پمپ مالکان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ مارجن کی وجہ سے وہ نقصان پر کام کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق:

ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز

ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ

پٹرولنگ ٹینکرز کی انشورنس

بجلی کے بڑھتے بل

یہ وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے ان کے مطابق پیٹرول پمپس منافع اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

عوامی ردِعمل — تنقید اور بے چینی

دوسری جانب عوام کی بڑی تعداد اس تجویز پر شدید تنقید کر رہی ہے۔ عام شہری کا مؤقف ہے کہ مہنگائی پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، ایسے میں مزید بوجھ ڈالنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو صرف ڈیلرز کا نہیں بلکہ عوام کا بھی سوچنا چاہیے۔

ایک شہری نے کہا:
"ہر مہینے قیمتیں بڑھتی ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اگر پیٹرول پمپس منافع اضافہ ہو بھی جاتا ہے تو عوام پر یہ بوجھ کیوں ڈالا جاتا ہے؟”

ایک اور شہری کا کہنا تھا:
"پہلے مہنگائی، پھر ٹیکس، اب پیٹرول کے نئے مارجن… عوام جائیں تو جائیں کہاں؟”

یہ بے چینی ظاہر کرتی ہے کہ پیٹرول پمپس منافع اضافہ کا معاملہ صرف تکنیکی نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور عوامی اہمیت بھی رکھتا ہے۔

پیٹرول کی قیمتوں پر ممکنہ اثرات

اگر وزارتِ پیٹرولیم اوگرا کی سفارشات منظور کر لیتی ہے تو امکان ہے کہ آئندہ پندرہ روزہ جائزے میں پیٹرول کی قیمتوں میں نیا اضافہ سامنے آئے۔ یہ اضافہ کچھ روپے کا بھی ہو، مہنگائی کی موجودہ فضا میں اس کی شدت زیادہ محسوس ہوگی۔ روزمرہ ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش کی ترسیل، بجلی پیدا کرنے والے ادارے، حتیٰ کہ عام موٹر سائیکل استعمال کرنے والے شہری سب ہی پیٹرول پمپس منافع اضافہ کے اثرات کا سامنا کریں گے۔

ماہرین کی رائے — توازن ضروری ہے

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایسا فیصلہ لینا چاہیے جس میں سب فریقوں کا توازن برقرار رہے۔ ان کے مطابق:

کمپنیوں کا کاروبار بھی چلتا رہے

ڈیلرز کو بھی جائز منافع ملے

اور عوام پر بھی اضافی بوجھ نہ پڑے

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ پیٹرول پمپس منافع اضافہ کا فیصلہ کرتے وقت شفاف فارمولا اپنایا جائے، اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔

ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ گھریلو سلنڈر 87 روپے مہنگا

نتیجہ — اہم فیصلہ متوقع

یہ مسئلہ اب صرف ایک تجویز نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں یہ فیصلہ عوام، حکومت اور کاروباری حلقوں کے لئے اہم ثابت ہوگا۔ تمام متعلقہ حلقوں کی نظریں اس فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں۔ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال میں پیٹرول پمپس منافع اضافہ کسی بڑے سیاسی اور معاشی ردعمل کو جنم دے سکتا ہے، اس لئے حکومت کو سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]