سندھ کا کیا حال ہے، بات نہیں کرنا چاہتی، مریم نواز کی بلاول بھٹو پر تنقید، سیلاب متاثرین کو 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان
ڈیرہ غازی خان : — وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ڈیرہ غازی خان میں الیکٹرک بس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیلاب متاثرین کے لیے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کیا اور کہا کہ پنجاب حکومت متاثرین کو بینظیر انکم سپورٹ (بی آئی ایس پی) کے 10 ہزار روپے نہیں بلکہ 10 لاکھ روپے دے گی تاکہ ان کی زندگیوں میں حقیقی بحالی لائی جاسکے۔
انہوں نے اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت پر سخت تنقید کی اور بالخصوص بلاول بھٹو زرداری کو نام لیے بغیر ہدف بنایا۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ ایک باعزت شخص کہہ رہا ہے کہ حکومت دنیا سے امداد کی اپیل کرے کہ اللہ کا واسطہ ہمیں پیسے دے دو۔ "میں ان کو کہنا چاہتی ہوں کہ یہ مشورے اپنے پاس رکھیں۔ پنجاب اپنے عوام کے لیے خود کفیل ہے اور ہم اپنے وسائل سے اپنے متاثرین کی مدد کریں گے۔”
مریم نواز کی بلاول بھٹو پر تنقید سیاست کرنے کا الزام
مریم نواز کی بلاول بھٹو پر تنقید کہا کہ پنجاب میں اس وقت تاریخ کا بدترین سیلاب آیا ہے۔ "چار ماہ سے مسلسل بارشیں ہو رہی ہیں اور لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پیپلزپارٹی، جو ہماری اتحادی ہے، اس مسئلے پر سیاست کررہی ہے۔”
مریم نواز کی بلاول بھٹو پر تنقید کرتے ہوۓ مزید کہا کہ صدر آصف زرداری میرے بڑے ہیں اور بلاول میرے چھوٹے بھائی ہیں، لیکن سندھ میں جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو پنجاب ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ "اب پنجاب پر مشکل وقت آیا ہے تو ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ رویہ قابل افسوس ہے۔”

10 ہزار نہیں، 10 لاکھ روپے دیں گے
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ(benazir income support programme) کے ذریعے 10 ہزار روپے دینے کی تجویز نہ صرف ناکافی ہے بلکہ متاثرین کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔ "جن لوگوں کے گھر بہہ گئے، جن کی زمینیں تباہ ہوگئیں، اور جنہوں نے برسوں کی محنت سے کھڑی کی گئی فصلیں کھو دیں، ان کے زخم 10 ہزار روپے سے نہیں بھر سکتے۔ ہم انہیں باعزت زندگی کی بحالی کے لیے 10 لاکھ روپے دیں گے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔”
پنجاب حکومت کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو سیلاب متاثرین کیلئے استعمال نہ کرنا غیر ذمہ دارانہ ہوگا، آصفہ بھٹو
میں نواز شریف کی بیٹی ہوں، امداد کے لیے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گی
مریم نواز نے کہا کہ روزانہ مفت مشورے آرہے ہیں کہ دنیا سے امداد کیوں نہیں مانگ رہے۔ "میں نواز شریف کی بیٹی ہوں، امداد کے لیے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گی۔ ایک خوددار قوم دوسروں کے آگے کب تک ہاتھ پھیلاتی رہے گی؟ ہمیں اپنے وسائل پر انحصار کرنا ہوگا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگر صوبے اپنے حصے کے وسائل عوام پر خرچ نہیں کریں گے تو پھر ان وسائل کا مقصد کیا رہ جائے گا؟ "ہمیں اربوں کھربوں روپے ملتے ہیں این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے، یہ پیسہ عوام کے لیے ہے نہ کہ بینکوں میں رکھنے کے لیے۔”
جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ بار بار جنوبی پنجاب کی لکیر کھینچنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن یہ سوچ غلط ہے۔ "ہم سب پنجاب کے باسی ہیں۔ ماضی میں جنوبی پنجاب کے عوام کو صرف وعدوں پر ٹالا گیا لیکن آج عملی اقدامات ہورہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کے لیے خصوصی ریلیف پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔ "ہم نے ٹینٹ، تیار کھانا، اور راشن فراہم کیا ہے، اور وزرا خود متاثرہ علاقوں میں جا کر لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں۔”
وفاق سے مالی مدد نہیں لی
مریم نواز نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ایک روپیہ بھی نہیں مانگا۔ "میں نے نہ پیسے لیے ہیں اور نہ ہی لینے کا ارادہ ہے۔ پنجاب اپنے وسائل سے اپنے عوام کو ریلیف دے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ امداد کا اصل حقدار وہ مزدور طبقہ ہے جو پورا مہینہ دن رات کام کرتا ہے لیکن پھر بھی اپنے بچوں کے لیے مناسب کھانے اور ضروریات پوری نہیں کرپاتا۔ "ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ راشن کارڈ ایسے ہی لوگوں کو دیے جائیں گے، نہ کہ ان کو جو گھر بیٹھے بغیر محنت کے ہر ماہ امداد لیتے ہیں۔”
الیکٹرک بس منصوبہ اور ترقیاتی وژن
مریم نواز نے تقریب کے دوران ڈیرہ غازی خان میں الیکٹرک بس منصوبے کا افتتاح کیا اور کہا کہ یہ صرف ایک آغاز ہے۔ "ہم چاہتے ہیں کہ پنجاب کے ہر شہر کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ یہاں کے عوام بھی ترقی یافتہ دنیا کی طرح سہولتیں حاصل کرسکیں۔”
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک بس منصوبہ نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ عوام کو سستی اور معیاری ٹرانسپورٹ بھی فراہم کرے گا۔ "یہ ہمارے اس وژن کا حصہ ہے کہ پنجاب کو ترقی کی دوڑ میں آگے لایا جائے۔”
سیاست کے بجائے خدمت پر زور
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ سیلاب ایک قدرتی آفت ہے اورمریم نواز کی بلاول بھٹو پر تنقید کرتے ہوۓ کہا کہ سیاست چمکانے کے بجائے عوامی خدمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتی ہوں کہ سیاست بعد میں کریں، پہلے متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم سب مل کر کام کریں گے تو سیلاب متاثرین کی بحالی جلد ممکن ہوگی۔ "ہمیں اپنے عوام کو یہ یقین دلانا ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں، ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے۔”

مریم نواز کی بلاول بھٹو پر تنقید کا عنصر نمایاں تھا تو دوسری جانب متاثرین کے لیے بڑے مالی پیکج کا اعلان بھی کیا گیا۔ ان کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کے معاملے میں دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے خود اپنے وسائل استعمال کرنے پر زور دے رہی ہے۔ ان کا یہ اعلان کہ ہر متاثرہ خاندان کو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے، سیلاب زدگان کے لیے کسی بڑے ریلیف سے کم نہیں۔
جیسے ایک ماں اپنے بچوں میں تفریق نہیں کرسکتی ویسے ہی صوبے کا خادم اپنے عوام اور صوبے میں تفریق نہیں کرسکتا۔جو ساؤتھ نارتھ سنٹرل کی بات کرتے ہیں وہ پنجاب کے عوام کے دوست نہیں ہیں۔انہیں صرف اقتدار چاہیے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز#ElectroBusInDGKhan pic.twitter.com/HGmlZgDv91
— PMLN (@pmln_org) September 25, 2025