رواں سال کی آخری ملک گیر پولیو مہم 15 تا 21 دسمبر سے شروع، 4.5 کروڑ بچوں کو تحفظ ملے گا
رواں سال 2025 کی آخری ملک گیر پولیو مہم 15 دسمبر سے شروع ہو کر 21 دسمبر تک جاری رہے گی۔ یہ سات روزہ مہم پاکستان کے ہر کونے میں موجود 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے جان لیوا وائرس سے بچانے کے لیے ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ اس عزم کا اعادہ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (EOC) نے کیا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں کروڑوں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
قومی ہدف اور افرادی قوت کی تیاری
نیشنل ای او سی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس ملک گیر پولیو مہم کا ہدف 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ہے۔ اس عظیم اور اہم مشن کو کامیاب بنانے کے لیے 4 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن پولیو ورکرز اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر بھی اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں گے۔ ان ورکرز میں ہیلتھ ورکرز، سیکیورٹی اہلکار، اور رضاکار شامل ہیں،
جو گھر گھر جا کر یہ یقینی بنائیں گے کہ کوئی بھی بچہ اس اہم ویکسینیشن سے محروم نہ رہے۔ ان کی کوششیں اور عزم قابل ستائش ہیں، اور ان کی سلامتی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس ملک گیر پولیو مہم کا مقصد پاکستان کو پولیو فری ملک بنانا ہے۔
کس صوبے میں کتنے بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے؟
ویکسینیشن مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے تمام صوبوں اور علاقوں کے لیے مخصوص اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ تقسیم زمینی حقائق، آبادی کے حجم اور پولیو وائرس کے خطرے کی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔
- پنجاب: سب سے بڑی آبادی والا صوبہ ہونے کی وجہ سے پنجاب میں سب سے بڑا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہاں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار صوبائی حکومت اور EOC کی مشترکہ کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
- سندھ: سندھ میں 1 کروڑ 6 لاکھ سے زائد بچوں کی ویکسینیشن کا ہدف ہے۔ کراچی جیسے گنجان آباد شہری مراکز میں ٹیموں کو خصوصی احتیاط اور تدابیر کے ساتھ کام کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
- خیبر پختونخوا: خیبر پختونخوا میں 72 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔ پولیو وائرس کے خطرے کے پیش نظر، خاص طور پر جنوبی اضلاع میں، اس ملک گیر پولیو مہم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
- بلوچستان: بلوچستان میں 26 لاکھ سے زائد بچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ جغرافیائی چیلنجز کے باوجود، ٹیمیں دور دراز اور مشکل ترین علاقوں تک رسائی کو یقینی بنا رہی ہیں۔
وفاقی علاقے اور دیگر خطے کی تفصیلات
وفاقی اور دیگر اہم خطوں میں بھی پولیو مہم بھرپور طریقے سے چلائی جائے گی:
- اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ نیشنل EOC کے مطابق، یہ تعداد تمام بچوں کی کوریج کو یقینی بناتی ہے۔
- آزاد جموں و کشمیر: یہاں 7 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
- گلگت بلتستان: گلگت بلتستان میں 2 لاکھ 28 ہزار سے زائد بچوں کی ویکسینیشن کا انتظام کیا گیا ہے۔
والدین کے لیے خصوصی پیغام: ویکسینیشن اور حفاظتی ٹیکوں کا کورس
نیشنل ای او سی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پولیو کا مکمل خاتمہ صرف حکومت اور پولیو ورکرز کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ یہ والدین کا بھی اولین فرض ہے۔ والدین سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ فرنٹ لائن پولیو ورکرز کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور 15 تا 21 دسمبر تک ہونے والی اس ملک گیر پولیو مہم میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک گیر پولیو مہم کے دوران صرف پولیو کے قطرے ہی کافی نہیں ہیں۔ پیدائش سے لے کر 15 ماہ تک کے تمام بچوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ حفاظتی ٹیکوں کا مکمل کورس (EPI Schedule) بھی بروقت مکمل کروائیں۔ یہ کورس صرف پولیو ہی نہیں بلکہ دیگر جان لیوا بیماریوں جیسے خسرہ، کالی کھانسی، تشنج وغیرہ سے بھی بچوں کو محفوظ بناتا ہے۔ حفاظتی ٹیکوں کا یہ کورس بچے کی زندگی بھر کی صحت اور تندرستی کی ضمانت ہے۔
کیوں یہ ملک گیر پولیو مہم اتنی ضروری ہے؟
پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں اب بھی پولیو کا وائرس موجود ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والے کیسز اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وائرس اب بھی فعال ہے اور کسی بھی وقت ہمارے بچوں کو معذور بنا سکتا ہے۔ پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے، صرف احتیاط ہی اس کا واحد حل ہے۔ ملک گیر پولیو مہم ہر بار ایک موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم اس وائرس کی جڑوں کو کاٹ سکیں۔
سندھ پولیو کیسز وارننگ، 20 ہزار نئے کیسز کا خطرہ
ہر ایک بچہ، جسے ویکسین پلائی جاتی ہے، وہ نہ صرف خود محفوظ ہوتا ہے بلکہ پورے کمیونٹی کو بھی وائرس کے پھیلاؤ سے بچاتا ہے۔ یہ ملک گیر پولیو مہم ہمارے بچوں کے محفوظ مستقبل کی ضامن ہے۔ نیشنل EOC نے یقین دلایا ہے کہ یہ ملک گیر پولیو مہم مؤثر اور محفوظ ہے۔ ویکسینیشن ایک قومی فریضہ ہے، اور ہمیں مل کر اس ملک گیر پولیو مہم کو کامیاب بنانا ہے۔