ایران کا سخت موقف: مجتبیٰ خامنہ ای نے دو ممالک کی ثالثی کی پیشکش ٹھکرا دی، "وقت امن کا نہیں”
تہران سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کو کم کرنے کے حوالے سے دو اہم ممالک کی جانب سے دی گئی تجاویز کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ایک اعلیٰ سطحی خارجہ پالیسی اجلاس کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ فیصلہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
ثالثی کی کوششیں ناکام
سینئر ایرانی عہدیداروں کے مطابق دو ممالک، جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے تھے، انہوں نے تناؤ میں کمی کے لیے ایک جامع فارمولا پیش کیا تھا۔ تاہم، مجتبیٰ خامنہ ای نے اس فارمولے کو ایران کے مفادات کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کسی بھی قسم کے سمجھوتے کی اجازت نہیں دیتے۔ انہوں نے اجلاس میں موجود شرکاء کو باور کرایا کہ تہران اپنی دفاعی حکمت عملی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
"امن کا وقت نہیں، شکست کا وقت ہے”
اجلاس کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ وقت امن کا نہیں ہے”۔ ان کا ماننا ہے کہ خطے میں پائیدار استحکام تبھی ممکن ہے جب امریکہ اور اسرائیل کو ان کی جارحیت پر شکست دی جائے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ایران کی پالیسی اب صرف دفاع تک محدود نہیں رہے گی بلکہ دشمن کو اس کی زبان میں جواب دیا جائے گا۔
نقصانات کا ازالہ اور ہرجانہ
ایرانی سپریم لیڈر نے اپنی تقریر میں اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ کو ان تمام معاشی اور جانی نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا جو اس کی پابندیوں اور کارروائیوں کی وجہ سے ایران کو پہنچے ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی میز پر واپسی تبھی ممکن ہے جب ایران کے حقوق کو تسلیم کیا جائے اور ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کیا جائے۔
اسرائیلی دعوے اور تہران کا ردعمل
دوسری جانب صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کٹز نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ جہاں ایک طرف مجتبیٰ خامنہ ای سخت موقف اپنائے ہوئے ہیں، وہیں اسرائیل کی جانب سے اس طرح کے بڑے حملوں کے دعوے خطے کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ علی لاریجانی کے حوالے سے اسرائیلی دعوے پر تہران میں اعلیٰ سطح پر مشاورت جاری ہے۔
علاقائی سیکورٹی پر اثرات
بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے اس بیان کے بعد خلیج میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے یہ پیغام واضح ہے کہ ایران اب کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے اپنی مزاحمتی تحریک کو مزید منظم کرنے کا اشارہ دے دیا ہے، جس کے اثرات لبنان، شام اور یمن تک محسوس کیے جائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد
خارجہ پالیسی کے اس اہم موڑ
خارجہ پالیسی کے اس اہم موڑ پر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے خطاب کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا کہ ایرانی قوم کسی بھی بیرونی سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہے۔ انہوں نے مسلح افواج کو الرٹ رہنے کا حکم بھی دیا تاکہ کسی بھی مہم جوئی کا فوری جواب دیا جا سکے۔