حقوق نہ ملنے پر نئے صوبے کی بات کرتے ہیں، مصطفیٰ کمال کا کراچی کے حوالے سے بڑا اعلان
کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں نئے صوبے کی تشکیل کے امکانات پر ایک اہم بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین میں صوبے بنانے کے قانون میں ترمیم بالکل ممکن ہے، اور یہ مطالبہ صرف اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی خطے کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جائے۔ مصطفیٰ کمال نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور کراچی کو اس کے حصے کے فنڈز نہ ملنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
صوبوں کی تشکیل آئینی ترمیم کا امکان
مصطفیٰ کمال کا واضح طور پر کہنا تھا کہ "صوبے بنانے کے قانون میں آئینی ترمیم بالکل ہوسکتی ہے،” اور ان کے نزدیک یہ مطالبہ ایک ردعمل ہوتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی، "نئے صوبے کی بات اس وقت کرتے ہیں جب ہمیں حقوق نہیں دیتے۔” یہ بیان ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کی بحث کو ایک نئی جہت دیتا ہے، خاص طور پر جنوبی پنجاب اور سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبات کی روشنی میں۔ ان کا اشارہ واضح تھا کہ اگر مرکزی شہروں اور علاقوں کو ان کا حق نہیں دیا جاتا، تو نئے صوبے کا مطالبہ ایک آئینی اور جمہوری حق بن جاتا ہے۔
کراچی کے مالی حقوق کی پامالی
وفاقی وزیر صحت نے سندھ حکومت پر کراچی کے مالی حقوق غصب کرنے کا الزام عائد کیا اور این ایف سی (نیشنل فنانس کمیشن) ایوارڈ کے تحت شہر کو ملنے والے فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم کا مسئلہ اٹھایا۔
ان کا کہنا تھا کہ "اس سال سندھ کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 2400 ارب روپے ملے ہیں، جس میں سے آبادی اور ریونیو جنریشن کے تناسب سے کراچی کو کم از کم 800 ارب روپے ملنے چاہیے تھے، مگر افسوس کہ 100 ارب روپے بھی نہیں ملے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "وفاق کہتا ہے کہ سارے پیسے وزیراعلیٰ کو دے دیے، جائیں وزیراعلیٰ سے لیں۔” یہ صورتحال کراچی کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کی ابتر حالت کی بنیادی وجہ ہے۔ مصطفیٰ کمال نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کراچی کو اس کے حصے کا فنڈ ملتا تو آج شہر کی حالت کہیں بہتر ہوتی اور نئے صوبے کی بات نہ کرنا پڑتی۔
شہری حکومت کے اختیارات پر سوال
مصطفیٰ کمال نے وزیراعلیٰ سندھ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "وزیراعلیٰ کچرا اٹھانے کے ذمہ دار بنے ہوئے ہیں۔ کون سی صوبائی حکومت یہ کام کرتی ہے؟” ان کے مطابق، بنیادی شہری خدمات کی فراہمی صوبائی حکومت کے بجائے منتخب بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہونی چاہیے، تاکہ وسائل کا صحیح استعمال ہو سکے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل نہ کرنا بھی نئے صوبے کے مطالبے کو تقویت دیتا ہے۔ اگر میگا سٹیز کو بااختیار بلدیاتی نظام مل جائے تو نئے صوبے کا مطالبہ کمزور پڑ سکتا ہے۔
زرعی ٹیکس اور آئی ایم ایف کا دباؤ
معاشی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ "کیا پیپلز پارٹی کہتی تھی زرعی ٹیکس نہیں لگنا چاہیے؟” انہوں نے یاد دلایا کہ "آئی ایم ایف نے کان پکڑ کر زرعی ٹیکس لگانے کا کہا تو زرداری صاحب نے پھر اعلان کیا۔” یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ملکی معاشی فیصلوں میں سیاسی جماعتیں قومی مفاد کے بجائے بیرونی دباؤ کے تحت عمل کرتی ہیں۔
نئے صوبے کا مطالبہ اور عوامی حقوق
مصطفیٰ کمال کے مطابق، نئے صوبے کا مطالبہ کسی علاقائی تعصب کی بنیاد پر نہیں، بلکہ حقوق کی عدم فراہمی کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ جب ایک بڑا شہر، جو ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہو، مالی طور پر مفلوج کر دیا جائے، تو اس کے پاس نئے صوبے کی آئینی جدوجہد کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبے کی بات آئین کے دائرے میں رہ کر کی جا رہی ہے۔ یہ ایک مطالبہ ہے کہ اختیارات کو حقیقی معنوں میں تقسیم کیا جائے، اور اگر موجودہ انتظامی ڈھانچہ یہ کرنے میں ناکام ہے، تو نئے صوبے ہی واحد حل ہیں۔ سندھ میں نئے صوبے کے قیام کا مطالبہ زور پکڑتا رہا ہے، اور مصطفیٰ کمال کا یہ بیان اس بحث میں ایک نیا موڑ لایا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نئے صوبے کی تحریک کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔