نادرا شناختی کارڈ سروسز فرنچائزز پر شروع، شہریوں کو بڑی سہولت
پاکستان میں شہریوں کو شناختی دستاویزات کے حصول میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک بڑا اور اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔ حکومت کی ہدایت پر اب شہری شناختی کارڈ اور دیگر متعلقہ خدمات صرف نادرا سینٹرز ہی نہیں بلکہ منتخب فرنچائزز سے بھی حاصل کر سکیں گے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو طویل قطاروں، رش اور وقت کے ضیاع سے بچانا ہے تاکہ وہ آسانی اور سہولت کے ساتھ اپنی شناختی دستاویزات بنوا سکیں۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے لاہور سمیت ملک بھر میں 2 ہزار سے زائد فرنچائزز کو شناختی کارڈ خدمات فراہم کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔
یہ فیصلہ شہریوں کے لیے ایک بڑی سہولت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ماضی میں شناختی کارڈ بنوانے یا اس کی تجدید کے لیے لوگوں کو نادرا کے دفاتر میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں نادرا مراکز پر رش بہت زیادہ ہوتا تھا جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اب فرنچائزز کے ذریعے یہ خدمات فراہم کیے جانے سے نہ صرف رش کم ہوگا بلکہ شہری اپنے قریبی مراکز سے آسانی سے خدمات حاصل کر سکیں گے۔
اس نئے اقدام کے تحت صرف لاہور ریجن میں ہی 270 سے زائد منتخب ای سہولت مراکز پر نادرا کی خدمات فراہم کر دی گئی ہیں۔ ان مراکز پر شہری شناختی کارڈ کی تجدید، گمشدہ شناختی کارڈ کا متبادل حاصل کرنے اور دیگر ضروری خدمات حاصل کر سکیں گے۔ اس سہولت سے خاص طور پر وہ افراد فائدہ اٹھائیں گے جو مصروفیت یا دوری کی وجہ سے نادرا کے مرکزی دفاتر تک نہیں پہنچ پاتے تھے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد شہریوں کو بہتر، تیز اور آسان خدمات فراہم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ نادرا کے دفاتر پر موجود بوجھ کو کم کیا جائے تاکہ وہاں موجود عملہ زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکے۔ فرنچائزز کو شامل کرنے سے نہ صرف خدمات کا دائرہ وسیع ہوگا بلکہ شہریوں کو بھی وقت کی بچت ہوگی۔
اس سے قبل نادرا فرنچائزز پر صرف بائیو میٹرک تصدیق کی سہولت فراہم کی جاتی تھی، لیکن اب اس دائرہ کار کو بڑھا دیا گیا ہے۔ اب شہری ان فرنچائزز سے شناختی کارڈ کی تجدید اور گمشدہ کارڈ کا متبادل حاصل کرنے جیسی اہم سہولیات بھی حاصل کر سکیں گے۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل اور عوام دوست نظام کو فروغ دینے کی ایک اہم مثال بھی ہے۔
حکام کے مطابق یہ سہولت خاص طور پر ان شہریوں کے لیے فائدہ مند ہوگی جو جدید آن لائن نظام استعمال کرنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے “پاک آئی ڈی” کے نام سے ایک آن لائن سروس متعارف کر رکھی ہے جس کے ذریعے شہری گھر بیٹھے شناختی کارڈ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، لیکن بہت سے افراد اس سسٹم کو استعمال نہیں کر پاتے۔ ایسے افراد کے لیے قریبی ای سہولت مراکز ایک آسان متبادل فراہم کریں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ملک میں شناختی دستاویزات کے حصول کا نظام مزید مضبوط اور مؤثر ہوگا۔ پاکستان جیسے بڑے ملک میں جہاں آبادی کی تعداد بہت زیادہ ہے، وہاں شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ فرنچائزز کے ذریعے خدمات فراہم کرنے سے یہ چیلنج کسی حد تک کم ہو سکتا ہے اور لوگوں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔
مزید برآں، اس اقدام سے دیہی اور نیم شہری علاقوں کے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ ماضی میں ان علاقوں کے رہائشیوں کو شناختی کارڈ بنوانے کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا، جس میں وقت اور اخراجات دونوں زیادہ ہوتے تھے۔ اب اگر ان کے قریب فرنچائزز میں نادرا خدمات دستیاب ہوں گی تو انہیں اس مشکل سے نجات مل سکے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں اس منصوبے کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ ملک کے زیادہ سے زیادہ علاقوں میں یہ سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس کے علاوہ فرنچائزز کے عملے کو تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ شہریوں کو معیاری خدمات مل سکیں اور کسی قسم کی غلطی یا تاخیر سے بچا جا سکے۔
شہریوں کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ وہ ان مراکز سے خدمات حاصل کرتے وقت اپنی ضروری دستاویزات ساتھ لے کر آئیں تاکہ درخواست کے عمل کو جلد مکمل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان فرنچائزز پر سکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کی معلومات محفوظ رہیں۔
عوامی حلقوں میں اس فیصلے کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ بہت سے شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہو گیا تو اس سے انہیں بڑی سہولت ملے گی۔ خاص طور پر ایسے افراد جو روزگار یا دیگر مصروفیات کی وجہ سے لمبی قطاروں میں کھڑے نہیں ہو سکتے، ان کے لیے یہ اقدام انتہائی مفید ثابت ہوگا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حکومت کا یہ فیصلہ عوامی سہولت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف شہریوں کو آسانی ہوگی بلکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔ اگر اس منصوبے کو مؤثر انداز میں جاری رکھا گیا اور مزید علاقوں تک پھیلایا گیا تو مستقبل میں شناختی دستاویزات کے حصول کا نظام مزید تیز، شفاف اور عوام دوست بن سکتا ہے۔

