اسرائیلی صدر ہرزوگ نے ٹرمپ کی نیتن یاہو کو معافی دینے کی درخواست مسترد کر دی

نیتن یاہو کو معافی دینے سے انکار
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسرائیلی صدر کا دوٹوک انکار، امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بھیجی گئی نیتن یاہو کو معافی دینے کی درخواست مسترد

بین الاقوامی سیاست اور اسرائیل کے اندرونی معاملات سے متعلق ایک غیر معمولی خبر سامنے آئی ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک خط کے ذریعے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ان کے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمات میں معافی دے دیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اقدام ایک خودمختار ملک کے قانونی معاملات میں ایک سابق سربراہ مملکت کی جانب سے براہ راست مداخلت سمجھا گیا۔

ٹرمپ نے اپنے خط میں واضح طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ نیتن یاہو کے خلاف لگائے گئے الزامات "سیاسی نوعیت” کے ہیں اور چونکہ وہ عوامی خدمات انجام دے رہے ہیں، لہٰذا انہیں فوری طور پر معافی دی جانی چاہیے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ماضی میں گہرے دوستانہ تعلقات رہے ہیں، جس کی وجہ سے ٹرمپ کا یہ اقدام حیران کن نہیں تھا۔

اسرائیلی صدر کا دوٹوک انکار: خودمختاری کی پاسداری

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ایک دوٹوک اور اصولی موقف اختیار کیا۔ صدر ہرزوگ نے تسلیم کیا کہ وہ ٹرمپ کی دوستی اور رائے کا احترام کرتے ہیں، لیکن انہوں نے واضح کر دیا کہ اسرائیل ایک خودمختار ملک ہے اور اس کے قانونی نظام کی مکمل پاسداری کرنا ان کی آئینی ذمہ داری ہے۔

صدر ہرزوگ کا یہ فیصلہ نیتن یاہو کو معافی دینے کے مطالبے کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی عوام کی بھلائی اور ملک کے آئینی اداروں کی مضبوطی ان کی پہلی اور بنیادی ترجیح ہے۔ یہ موقف اسرائیلی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں صدر کا منصب سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر فیصلے کرتا ہے۔

نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے مقدمات

یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ نیتن یاہو کے خلاف گزشتہ پانچ سال سے کرپشن کے متعدد مقدمات چل رہے ہیں۔ ان مقدمات میں رشوت ستانی، دھوکہ دہی، اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ ان الزامات کے تحت نیتن یاہو کو معافی دینے کا کوئی بھی قدم ملکی قانونی ڈھانچے پر شدید اثرات مرتب کر سکتا تھا۔

یہ مقدمات تین مختلف کیسز پر مشتمل ہیں:

  1. کیس 1000 (Case 1000): جس میں مہنگے تحفے قبول کرنے کا الزام ہے۔
  2. کیس 2000 (Case 2000): جس میں ایک اخبار کے پبلشر سے سازباز کرنے کا الزام ہے۔
  3. کیس 4000 (Case 4000): جسے سب سے سنگین سمجھا جاتا ہے، جس میں ٹیلی کام ریگولیٹری فیصلوں کے بدلے ایک بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کو فائدہ پہنچانے کا الزام ہے۔

ان تمام مقدمات کی وجہ سے نیتن یاہو کو معافی دینا ایک ایسا سیاسی اور قانونی طوفان کھڑا کر سکتا تھا جس سے بچنے کے لیے صدر ہرزوگ نے آئینی راستہ اختیار کیا۔

معافی کا اختیار اور اسرائیل کا قانونی نظام

اسرائیلی صدر کا منصب علامتی ہوتا ہے، تاہم ان کے پاس کسی بھی مجرم کو معافی دینے یا سزا میں تخفیف کرنے کا محدود اختیار ہوتا ہے۔ تاہم، اس طرح کا اختیار عام طور پر ملک کے وزیراعظم کو ان کے دورانِ مقدمہ دیا جانا، خصوصاً جب وہ عہدے پر ہوں، انتہائی غیر معمولی اور متنازعہ ہوتا۔ نیتن یاہو کو معافی دینے کے لیے صدر کو قانونی نظام کے اصولوں اور عوامی اعتماد کو مقدم رکھنا تھا۔

صدر ہرزوگ نے ٹرمپ کی درخواست مسترد کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ اسرائیل میں کوئی بھی شخص، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور ہو یا کسی بڑے عالمی رہنما کی حمایت حاصل ہو، قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ اس فیصلے نے اسرائیل کے عدالتی نظام کی آزادی اور شفافیت کو مضبوط کیا ہے۔

نیویارک میں اسرائیل مخالف احتجاج: نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ

ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کو معافی دینے کے لیے درخواست اور اس پر اسرائیلی صدر کا انکار عالمی سطح پر ایک اہم خبر بنی۔ زیادہ تر مبصرین نے صدر ہرزوگ کے فیصلے کو اسرائیلی جمہوریت کے احترام اور قانونی حکمرانی کی پاسداری کے طور پر سراہا ہے۔ اس فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں دوستی اور ذاتی روابط اپنی جگہ ہیں، لیکن قومی اداروں کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ نیتن یاہو کو معافی نہ ملنے سے عدالتی عمل اپنی فطری رفتار سے جاری رہے گا اور ملک کے عوام کو ایک شفاف عدالتی فیصلہ سننے کا موقع ملے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]