پاک فوج کا افغان طالبان کے خلاف آپریشن غضب للحق، اہم کامیابیاں

آپریشن غضب للحق میں پاک فوج کی کارروائی کا منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آپریشن غضب للحق: پاک فوج نے افغان طالبان کے کمپاؤنڈز کلیئر کر دیے

افغانستان کی سرحدی حدود سے پاکستان میں دراندازی، حملوں اور دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی کے جواب میں افواجِ پاکستان کا جاری آپریشن غضب للحق تاحال مکمل عزم اور موثر انداز میں جاری ہے۔ پاک فوج نے افغان طالبان کے متعدد مرکز پوسٹوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہے اور دشمن کے کمپاؤنڈز کو کلیئر کر کے ان کے جھنڈے اتار دیے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاک فوج سرحدی سکیورٹی کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں کر رہی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کا جواب نہایت منظم اور طاقتور انداز میں دیا جا رہا ہے، اور 28 فروری کو پاکستانی جوانوں کی افغانستان میں داخل ہونے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اس آپریشن کی شدت اور کامیابی واضح ہو گئی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کے مطابق ہفتے کی صبح تک کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 352 افغان طالبان ہلاک اور 535 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ دشمن کی 130 چیک پوسٹیں تباہ کی گئی ہیں اور 26 پوسٹیں پاک فوج کے کنٹرول میں آ چکی ہیں۔ یہ اعداد و شمار پاک فوج کی منصوبہ بندی اور پیشہ ورانہ حکمت عملی کی کامیابی کا مظہر ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے سے گریز نہیں کر رہا۔

آپریشن غضب للحق میں پاکستانی افواج نے جدید ٹیکنالوجی اور باریک بین سکیورٹی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کے ٹھکانوں اور چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا ہے، جس سے نہ صرف افغان طالبان کی پوزیشنز پر گرفت مضبوط ہوئی بلکہ سرحدی علاقے میں رہنے والے شہریوں کی حفاظت بھی یقینی بنی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن دشمن کی پناہ گاہوں اور معاونت کو ختم کرنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا جا رہا ہے اور اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔

پاک فوج کے جاری آپریشن نے سرحدی علاقے میں دشمن کی حوصلہ شکنی کی ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گا۔ آپریشن کے دوران پاکستانی جوانوں کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث دشمن کی مزاحمت کا مکمل خاتمہ کیا گیا اور اہم مراکز پر قبضہ کر کے پاک فوج نے علاقے میں امن قائم کرنے کی سمت میں اہم کامیابی حاصل کی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق نہ صرف پاکستان کی سرحدی سکیورٹی کے لیے بلکہ خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھی ایک مضبوط اقدام ہے۔ اس سے افغان طالبان کو واضح پیغام ملتا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا اور دہشت گرد عناصر کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

اس آپریشن کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ پاکستانی افواج نے محدود وقت میں دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور اس دوران شہری علاقوں کو محفوظ رکھنے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ اس کی وجہ سے آپریشن نہ صرف مؤثر رہا بلکہ غیر ضروری ہلاکتوں سے بچاؤ بھی ممکن ہوا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور قومی عزم کا مظہر ہیں، اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی۔

سیکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران پاک فوج نے دشمن کے متعدد کمزوری نکالے اور ان کے خلاف بروقت حکمت عملی اپنائی۔ اس سے نہ صرف دشمن کی جانی و مالی نقصان ہوا بلکہ ان کی تنظیمی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ آپریشن کے نتائج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان سرحدی علاقوں میں امن قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

آپریشن غضب للحق کے بعد سرحدی علاقوں میں پاکستانی فوج کی موجودگی مزید مستحکم ہو گئی ہے اور کسی بھی نئی دراندازی کے لیے دشمن کو روکنے کے لیے موثر حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ آپریشن نہ صرف افغان طالبان کے لیے دھچکا ہے بلکہ خطے میں دہشت گردی کی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آپریشن غضب للحق پاکستانی افواج کی صلاحیت، قومی عزم اور سرحدی سکیورٹی کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے۔ پاک فوج نے موثر کارروائی کے ذریعے دشمن کے ٹھکانوں پر قبضہ حاصل کر کے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کا لوہا منوایا ہے، اور یہ آپریشن تب تک جاری رہے گا جب تک تمام اہداف حاصل نہ کر لیے جائیں اور سرحدی علاقے میں مکمل امن قائم نہ ہو جائے۔۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]