ایران امریکہ کشیدگی: پاکستان کی سفارتکاری عالمی سطح پر کامیاب، دفتر خارجہ نے بھارتی جھوٹا پروپیگنڈا مسترد کر دیا
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر پاکستان کا موقف واضح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی میں پاکستان کی سفارتکاری نے انتہائی کلیدی کردار ادا کیا ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، تاہم بھارت کی جانب سے اس کامیابی کو داغدار کرنے کے لیے فیک نیوز کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
بھارتی پروپیگنڈا اور فیک نیوز کا جواب
ترجمان کے مطابق، بھارت کی جانب سے پاکستان کی سفارتکاری کے خلاف منظم طریقے سے جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سے منسوب ایک بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا جس کی بعد میں خود ایران نے وضاحت جاری کی۔ دفتر خارجہ نے میڈیا اور عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسی فیک نیوز سے ہوشیار رہیں جن کا مقصد پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کو نقصان پہنچانا ہے۔
اسلام آباد میں اہم سفارتی بیٹھک
گزشتہ ہفتے اسلام آباد مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم مرکز بنا رہا۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔ اس چار فریقی اجلاس کے دوسرے دور میں امت مسلمہ کے اتحاد اور خطے میں استحکام لانے کے لیے پاکستان کی سفارتکاری کو تمام شرکاء کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔ ان وزرائے خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی، جس میں امن کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔
ایران امریکہ جنگ اور 5 نکاتی ایجنڈا
پاکستان نے نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر بھی امن کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے حالیہ دورہ چین کے دوران دونوں ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک جامع 5 نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے۔ اس ایجنڈے کی کامیابی پاکستان کی سفارتکاری کی مرہونِ منت ہے جو متوازن اور اصولی موقف پر مبنی ہے۔
ایران کا خیر سگالی اقدام
ترجمان نے بتایا کہ ایرانی حکومت نے جذبہ خیر سگالی کے تحت آبنائے ہرمز سے 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو بحفاظت گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس حوالے سے اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پر بھی آگاہ کیا تھا۔ ایران کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ تہران اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات کس قدر مضبوط ہیں اور پاکستان کی سفارتکاری دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے میں کتنی موثر ثابت ہو رہی ہے۔
افغانستان اور دہشتگردی کا معاملہ
افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ پاکستان کبھی بھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا۔ اس وقت بھی پاکستانی وفد چین کے شہر ارومچی میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔ پاکستان کا مطالبہ بڑا واضح ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں۔ پاکستان کی سفارتکاری کا مقصد خطے کو دہشتگردی سے پاک کرنا ہے، اور اس سلسلے میں چین کے ساتھ مل کر مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی سفارتکاری ہمیشہ امن اور مکالمے کی قائل رہی ہے۔ چاہے وہ مشرق وسطیٰ کا بحران ہو یا پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات، اسلام آباد نے ہمیشہ تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے پھیلائی جانے والی من گھڑت کہانیاں دراصل پاکستان کی ان سفارتی کامیابیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے۔
ایوان صدر میں اہم اجلاس، اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے، مہنگائی روکنے اور پیٹرول قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ
آخر میں ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی سفارتکاری کا محور صرف اور صرف قومی مفاد اور عالمی امن ہے۔ مسلم ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور عالمی طاقتوں کا پاکستان پر اعتماد اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام آباد ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا حق ادا کر رہا ہے۔