پاکستان اور انڈونیشیا کی افواج نے انسداد دہشت گردی آپریشنز کی مشترکہ فوجی مشق کامیابی سے مکمل کرلی

پاکستانی اور انڈونیشین فوجیوں کی مشترکہ انسداد دہشت گردی آپریشنز کی مشق کی تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان، انڈونیشیا مشترکہ فوجی مشق ‘شاہین اسٹرائیک–ٹو’ کامیابی سے اختتام پذیر، انسداد دہشت گردی آپریشنز کی تربیت پر توجہ

پاکستان اور انڈونیشیا کی افواج نے دو ہفتوں پر محیط اپنی مشترکہ فوجی مشق "شاہین اسٹرائیک–ٹو” (Shaheen Strike-II) کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔ اس مشق کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کی افواج کی خصوصی جنگی صلاحیتوں کو انسداد دہشت گردی آپریشنز کے حوالے سے مزید نکھارنا اور تجربات کا تبادلہ کرنا تھا۔ دونوں فریقین نے اس مشق کے دوران تمام تربیتی مقاصد کو نہ صرف حاصل کیا بلکہ اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری ہونے والے ایک تفصیلی بیان کے مطابق، یہ مشترکہ فوجی مشق 8 نومبر سے شروع ہو کر 19 نومبر تک جاری رہی۔ اس میں پاکستان آرمی اور انڈونیشین آرمی کی خصوصی جنگی ٹیموں نے بھرپور حصہ لیا۔

مشق کا بنیادی مقصد: انسداد دہشت گردی آپریشنز

مشق "شاہین اسٹرائیک–ٹو” کا مرکزی نکتہ انسداد دہشت گردی آپریشنز کی تربیت تھا۔ چونکہ دونوں ممالک مختلف خطوں میں دہشت گردی کے خطرات کا سامنا کرتے رہے ہیں، اس لیے یہ مشترکہ تربیت ایک دوسرے کے بہترین طریقوں اور جدید تکنیکوں کو سیکھنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ اس تربیت کے ذریعے دونوں ممالک کی افواج نے انسداد دہشت گردی آپریشنز میں اپنی استعداد کار کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، مشق میں شامل دستوں نے کئی اہم اور پیچیدہ تربیتی شعبوں پر کام کیا:

  1. بلٹ اپ ایریاز میں کارروائیاں: شہری اور گنجان آباد علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرنے کی تکنیک پر عمل کیا گیا۔
  2. دہشت گردی مخالف تکنیکیں: جنگی صورتحال میں جدید ترین دہشت گردی مخالف تکنیکوں اور حکمت عملیوں کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔
  3. آئی ای ڈیز کا تدارک: امپرووائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائسز (IEDs) کا سراغ لگانے، انہیں ناکارہ بنانے اور ان کے خطرے سے نمٹنے کے جدید طریقہ کار پر خصوصی تربیت دی گئی۔

یہ تمام شعبے عصر حاضر کے انسداد دہشت گردی آپریشنز کی ضروریات کے عین مطابق تھے۔

اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور ہم آہنگی

مشترکہ فوجی مشق کے دوران، دونوں ممالک کے دستوں نے نہ صرف اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل قابلیت کا مظاہرہ کیا بلکہ ان کے درمیان بھرپور ہم آہنگی (Synergy) بھی دیکھنے میں آئی۔ یہ ہم آہنگی اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں افواج مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک صفحے پر ہیں۔ آئی ایس پی آر نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ یہ مشترکہ مشقیں مستقبل کے انسداد دہشت گردی آپریشنز کی تیاری کے لیے نہایت اہم ہیں۔

اس طرح کی مشقوں کا مقصد صرف فوجی مہارتوں کو بڑھانا نہیں ہوتا، بلکہ آپس میں ثقافتی اور عسکری تعلقات کو مضبوط بنانا بھی ہوتا ہے۔ دونوں افواج کے ماہرین نے انسداد دہشت گردی آپریشنز میں اپنے اپنے گہرے تجربے کا تبادلہ کیا، جو عالمی سلامتی کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ یہ تعاون مستقبل میں بھی انسداد دہشت گردی آپریشنز کی کامیابی کا ضامن ہوگا۔

دیرینہ عسکری تعلقات کو مزید تقویت

مشق "شاہین اسٹرائیک–II” نے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان پہلے سے موجود دیرینہ عسکری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو ایک نئے سنگ میل تک پہنچایا گیا۔ یہ مشق علاقائی امن و استحکام کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کا بھی اظہار ہے۔ پاکستان کی دفاعی تربیت کی سہولیات کو انڈونیشین آرمی نے بہت سراہا، اور یقین دلایا کہ یہ انسداد دہشت گردی آپریشنز کی تربیت ان کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی۔

پاکستان ترکیہ بحری مشق 2025: دفاعی تعاون اور آپریشنل ہم آہنگی کی شاندار مثال

اختتامی تقریب اور مہمان خصوصی

مشق کا باضابطہ اختتام 18 نومبر کو ہوا جس کی اختتامی تقریب میں اہم فوجی قیادت نے شرکت کی۔ پاکستان کی جانب سے ایک جنرل آفيسر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ انڈونیشیا کی جانب سے سینئر فوجی حکام شریک ہوئے۔ اختتامی تقریب میں شریک فوجی حکام نے مشق کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح کی مشترکہ کوششیں انسداد دہشت گردی آپریشنز میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]