محکمہ موسمیات کی رپورٹ: ایران میں بمباری سے پاکستان کو خطرہ نہیں

محکمہ موسمیات کی جانب سے فضائی نگرانی کی مانیٹرنگ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایران میں تیل ذخائر پر حملے: محکمہ موسمیات نے پاکستانی ماحولیات کے حوالے سے اہم بیان جاری کر دیا

محکمہ موسمیات پاکستان نے ایران میں تیل کے ذخائر پر ہونے والی حالیہ بمباری کے بعد پیدا ہونے والے خدشات کو دور کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا ماحول فی الحال کسی بھی قسم کے خطرے سے باہر ہے۔ ترجمان محکمہ موسمیات انجم نذیر کے مطابق، پاکستان کی فضائی حدود میں آلودگی کے پھیلاؤ کے کوئی آثار نہیں ملے اور شہری اس حوالے سے کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں۔

ایران کے ساتھ ڈیٹا کا تبادلہ اور نگرانی

انجم نذیر نے بتایا کہ محکمہ موسمیات پاکستان مسلسل ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان موسمیاتی ڈیٹا کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور پاکستان کے اپنے مانیٹرنگ سسٹم کے مطابق، بالائی فضا میں اب تک کسی بھی قسم کے خطرناک آلودہ ذرات یا زہریلی گیسوں کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ محکمہ موسمیات کی ٹیمیں 24 گھنٹے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

تابکاری کے اثرات اور ہواؤں کا رخ

عوامی سطح پر پائے جانے والے ایک بڑے خوف، یعنی تابکاری (Radiation) کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے واضح کیا ہے کہ اب تک کی سائنسی مانیٹرنگ میں تابکاری کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر بالفرض تابکاری کا کوئی واقعہ ہوتا بھی ہے، تو موجودہ ہواؤں کے رخ کے مطابق اس کے اثرات ترکمانستان کی جانب جائیں گے۔ چونکہ بمباری ایران کے شمال مغربی حصے میں ہو رہی ہے، اس لیے پاکستان پر اس کے اثرات پڑنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔

جغرافیائی فرق اور سرحدی صورتحال

پاکستان کا بارڈر ایران کے جنوبی حصے سے ملتا ہے، جبکہ حالیہ فوجی کارروائیاں ایران کے شمال مغرب میں مرکوز ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، جنوبی سرحدی علاقوں میں حالات بالکل معمول کے مطابق ہیں اور وہاں کی آب و ہوا میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نوٹ نہیں کی گئی۔ محکمہ موسمیات نے اطمینان دلایا ہے کہ جغرافیائی دوری پاکستان کے حق میں جا رہی ہے۔

ایران میں ‘بلیک تیزابی بارش’ اور ماحولیاتی تباہی

اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی تیل ذخائر پر بمباری کے نتیجے میں تہران اور اس کے گردونواح میں ‘بلیک تیزابی بارش’ دیکھی گئی ہے، جسے سنگین ماحولیاتی تباہی کی علامت قرار دیا جا رہا تھا۔ تاہم، محکمہ موسمیات پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ اثرات مقامی نوعیت کے ہیں اور فی الحال ان کا سرحد پار پاکستان کی جانب منتقل ہونا ممکن نہیں لگتا۔

خیبرپختونخوا میں بارش، فباری اور برفباری کا امکان، دھند کی وارننگ

محکمہ موسمیات نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا ہے کہ وہ تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر فضا کے معیار (Air Quality) کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ اگر مستقبل میں ہواؤں کے رخ میں کوئی بڑی تبدیلی آتی ہے جو پاکستان کے لیے مضر ثابت ہو سکتی ہو، تو محکمہ موسمیات فوری طور پر الرٹ جاری کر دے گا۔ فی الوقت تمام اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کا ماحول مکمل طور پر محفوظ ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]