پاکستانی فورسز کی افغانستان میں فضائی کارروائی، فتنہ الخوارج کے اہم مراکز کو نشانہ بنا دیا گیا
پاکستان نے سرحد پار سے بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے سدباب کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے افغانستان میں فضائی کارروائی کی ہے، جس کے نتیجے میں شدت پسندوں کے سات اہم ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔ انٹیلی جنس بیسڈ اس آپریشن میں طالبان کمانڈر اختر محمد سمیت متعدد دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
آپریشن کی تفصیلات اور اہداف
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل اور ننگرہار کے علاقوں میں کی گئی۔ افغانستان میں فضائی کارروائی کے دوران پاکستانی جیٹ طیاروں نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو درست نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں اور شدت پسندوں کے زیر استعمال اہم تنصیبات ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
فتنہ الخوارج کو بھاری نقصان
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق یہ افغانستان میں فضائی کارروائی خالصتاً دفاعی اور جوابی اقدام تھا۔ اس کا مقصد فتنہ الخوارج اور اس سے منسلک گروہوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنا تھا جو پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں اور دہشت گردی کی لہر میں ملوث تھے۔ پکتیکا کے بعد ننگرہار کے ضلع خوگیانی اور مرغہ کے علاقوں میں بھی شدت پسندوں کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
طالبان کمانڈر اختر محمد کی ہلاکت
اس حالیہ افغانستان میں فضائی کارروائی کی سب سے بڑی کامیابی فتنہ الخوارج کے اہم کمانڈر اختر محمد کی ہلاکت ہے۔ رپورٹس کے مطابق اختر محمد پکتیکا کے علاقے میں روپوش تھا اور پاکستان کے خلاف کئی بڑی کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا تھا۔ اس کی ہلاکت سے دہشت گرد تنظیم کے نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
دہشت گردی کے ناقابل تردید شواہد
پاکستان کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ حالیہ عرصہ میں اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے حملوں کے تانے بانے افغانستان میں موجود قیادت سے ملتے ہیں۔ پاکستان کے پاس ایسے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ یہ حملے افغان سرزمین پر بیٹھے ہینڈلرز کی ایما پر کیے گئے۔ اسی وجہ سے افغانستان میں فضائی کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔
افغان عبوری حکومت سے مطالبات
پاکستان نے بارہا افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔ افغانستان میں فضائی کارروائی کے بعد ایک بار پھر مطالبہ کیا گیا ہے کہ کابل حکومت دوحہ معاہدے کی پاسداری کرے اور دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس ایکشن لے۔
علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی برادری کا کردار
پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے، لیکن عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ اس افغانستان میں فضائی کارروائی کے ذریعے دنیا کو پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ افغان حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر آمادہ کرے۔
شاہینوں کی پروازیں اور مستقبل کی حکمت عملی
ننگرہار کے ضلع کامی اور دیگر سرحدی علاقوں میں اب بھی صورتحال کشیدہ ہے اور اطلاعات کے مطابق فضائی نگرانی کا عمل جاری ہے۔ اس افغانستان میں فضائی کارروائی نے واضح کر دیا ہے کہ اب دہشت گردوں کو کسی بھی جگہ چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔
One Response