دوحہ پر اسرائیلی حملہ: سلامتی کونسل اجلاس میں پاکستان اور اسرائیل میں تلخ جملوں کا تبادلہ

سلامتی کونسل اجلاس میں پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

دوحہ اسرائیلی حملہ پر بلائے گئے اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل اجلاس میں پاکستان اور اسرائیل کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

نیویارک (رئیس الاخبار ): اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعرات کو ایک ہنگامی اجلاس کے دوران پاکستان اور اسرائیل کے نمائندوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال پر غور کیا گیا، خاص طور پر قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملے کو موضوعِ بحث بنایا گیا، جس میں حماس کے کئی رہنماؤں اور عام شہریوں کی ہلاکت ہوئی۔

یہ اجلاس الجزائر، پاکستان اور صومالیہ کی درخواست پر بلایا گیا تھا اور اس کی حمایت فرانس اور برطانیہ نے بھی کی۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ امریکا، چین، روس، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک کے مندوبین نے بھی شرکت کی قابل توجہ چیز سلامتی کونسل اجلاس میں پاکستان اور اسرائیل کے سفیروں کے درمیان سخت مباحثہ رہا ۔

پاکستان کا مؤقف: "یہ حملہ غیر قانونی اور خطے کے لیے خطرہ ہے”

پاکستان کا کرارا جواب سلامتی کونسل میں اسرائیلی ریمارکس پر

پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ، عاصم افتخار احمد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ پر اسرائیلی حملہ "قطر کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، غیر قانونی اور ڈھٹائی پر مبنی عمل” ہے۔ انہوں نے کہا:

"یہ حملہ کوئی الگ واقعہ نہیں، بلکہ اسرائیل کی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کا حصہ ہے، جو پورے خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی حملہ ایک رہائشی علاقے پر کیا گیا، جس سے عام شہریوں کی زندگیاں جان بوجھ کر خطرے میں ڈالی گئیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

سفارت کاری کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ حملہ ایسے وقت پر کیا گیا جب غزہ کے حوالے سے اہم مذاکرات کامیابی کے قریب تھے۔ ان کے مطابق:

"کسی ثالثی ملک کے علاقے اور براہِ راست مذاکرات میں شریک افراد کو نشانہ بنانا دراصل سفارت کاری کو ناکام بنانے اور امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔”

عاصم افتخار احمد نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کے حالیہ قطر کے دورے کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ دورہ پاکستان کی قطر کے ساتھ یکجہتی اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے عزم کی علامت تھا۔

اسرائیلی مندوب کا جواب اور پاکستان کی سخت تنقید

اسرائیلی نمائندے کے الزامات

اسرائیل کے مندوب نے اپنے خطاب کا آغاز پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت کی مثال دی اور کہا کہ:

"جب امریکا نے پاکستان میں اسامہ بن لادن کو ختم کیا تو کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ غیر ملکی سرزمین پر کارروائی کیوں کی گئی، بلکہ سوال یہ تھا کہ ایک دہشت گرد کو پناہ کیوں دی گئی؟ یہی سوال آج بھی اٹھتا ہے۔”

اس پر پاکستان نے فوری طور پر حقِ جواب استعمال کیا۔ عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یہ موازنہ "ناقابلِ قبول اور بے ہودہ” ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیل اپنی غیر قانونی کارروائیوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا:

"یہ قابض ریاست اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے۔ یہ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور حتیٰ کہ خود اقوام متحدہ کو بھی دھمکاتی ہے اور اس سب کے باوجود خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مگر آج یہ مکمل طور پر بے نقاب ہو چکی ہے۔”

قطر کا ردعمل: "ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں”

اجلاس میں قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ پر حملہ نہ صرف قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ براہِ راست ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے جو غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری تھے۔

انہوں نے کہا:

"کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ کوئی ریاست ثالثی کرنے والے ملک کو ہی نشانہ بنائے؟ یہ عمل سفارت کاری اور امن کی کوششوں پر حملہ ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی یہ کارروائیاں خطے کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہیں، لیکن "ہم جنگ اور تباہی کے نعروں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔”

پاکستان کا کرارا جواب سلامتی کونسل میں اسرائیلی نمائندے کو بے نقاب کرتا ہے

چین، فرانس اور برطانیہ کی حمایت

چین کے مندوب نے اسرائیلی حملے کو "بدنیتی پر مبنی عمل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی تجویز کے بعد محض دو دن کے اندر ہی حماس کی مذاکراتی ٹیم کو نشانہ بنایا، جو دانستہ طور پر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔

فرانس نے کہا کہ یہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، جبکہ برطانیہ نے کہا کہ "یہ کارروائی اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی کے بھی خلاف ہے۔”

امریکا کا موقف اور اسرائیل کی وضاحت

امریکی نمائندے نے کہا کہ قطر کے اندر یکطرفہ بمباری واشنگٹن یا تل ابیب کے مفاد میں نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے اسرائیل کے تحفظ کے حق کو تسلیم کیا اور دونوں فریقین سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی۔

اسرائیلی مندوب نے آخر میں کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک "دہرے معیار” اپناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ:

"حقیقت یہ ہے کہ نائن الیون ہوا اور اسامہ بن لادن پاکستان میں مارا گیا، لیکن امریکا پر تنقید نہیں کی گئی۔ جب دوسرے ممالک دہشت گردوں کو نشانہ بناتے ہیں تو کوئی ان کی مذمت نہیں کرتا، تو پھر اسرائیل پر کیوں اعتراض کیا جا رہا ہے؟”


سلامتی کونسل اجلاس میں پاکستان اور اسرائیل کے درمیان بحث دوحہ پر حملے کے معاملے پر گہری تقسیم کو ظاہر کرتی ہے، جہاں پاکستان نے اسرائیل کی سخت مذمت کی اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا دفاع کیا۔ سفیر عاصم احمد نے بار بار واضح کیا کہ اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر جاری قبضہ خطے کے بحرانوں کی اصل جڑ ہے اور پائیدار امن صرف ایک جامع سیاسی تصفیے اور قبضے کے خاتمے سے ممکن ہے۔

سلامتی کونسل کا اعلامیہ

اجلاس کے اختتام پر سلامتی کونسل نے ایک متفقہ بیان جاری کیا، جس میں دوحہ پر حملے کی مذمت کی گئی اور قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی توثیق کی گئی۔ بیان میں قطر کے غزہ جنگ بندی مذاکرات میں کلیدی کردار کو بھی سراہا گیا۔ تاہم سلامتی کونسل اجلاس میں پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ، ساتھ ہی قطر اور چین کی مذمت، اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ ریاستی تشدد کے اقدامات پر جواب دہی، بین الاقوامی قانون کی تشریح اور دہرے معیار کے بارے میں اختلافات برقرار ہیں۔

تجزیہ اور اہم سوالات

یہ اجلاس کئی اہم نکات کو اجاگر کرتا ہے:

پاکستان کا مؤقف: پاکستان نے اسرائیلی جارحیت کو کھل کر بے نقاب کیا اور بین الاقوامی قانون کا بھرپور دفاع کیا۔

اسرائیل کا موقف: اسرائیل نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر کارروائی کا جواز دینے کی کوشش کی۔

قطر کی پوزیشن: قطر نے ثالثی کے کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ یہ حملہ امن کی کوششوں کو تباہ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔

بڑی طاقتوں کا کردار: چین، فرانس اور برطانیہ نے کھل کر اسرائیل کی مذمت کی، جبکہ امریکا نے محتاط موقف اختیار کیا۔

دوحہ پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد ہونے والیسلامتی کونسل اجلاس میں پاکستان اور اسرائیل کی بحث نے یہ اہم سوال بھی کھڑا کیا کہ کیا عالمی ادارے یکطرفہ فوجی کارروائیوں کو روکنے، ثالثوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور تنازعات میں شہریوں کی سلامتی کو برقرار رکھنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سلامتی کونسل اجلاس میں پاکستان اور اسرائیل مباحثہ(pak vs israel) اقوام متحدہ کے اندر پائی جانے والی گہری تقسیم کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف اسرائیل اور اس کے حامی ہیں، دوسری طرف وہ ممالک ہیں جو بین الاقوامی قوانین اور سفارتی عمل کے تحفظ پر زور دیتے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ اجلاس ایک موقع تھا کہ وہ اپنے اصولی مؤقف کو دنیا کے سامنے اجاگر کرے اور یہ باور کرائے کہ خطے میں امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب فلسطینی سرزمین پر قبضے کا خاتمہ ہو اور ایک جامع سیاسی تصفیہ سامنے آئے۔

یہ واقعہ نہ صرف مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری پر اثر ڈالے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ سوال کھڑا کرے گا کہ کیا اقوام متحدہ یکطرفہ فوجی کارروائیوں کو روکنے اور ثالثی کرنے والے ممالک کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے یا نہیں۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]