پاکستان میں سونا مزید مہنگا، فی تولہ قیمت 5 لاکھ 39 ہزار سے تجاوز
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور آج بھی سونا مزید مہنگا ہو گیا ہے جس کے بعد عام شہریوں اور سرمایہ کاروں دونوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی صرافہ بازاروں میں سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں سونا ایک نئی بلند سطح پر پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے بڑھنے اور معاشی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے پاکستان میں بھی سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے بتایا ہے کہ ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 3400 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد فی تولہ سونا 539,962 روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف حالیہ دنوں کی بلند ترین سطحوں میں شمار ہو رہا ہے بلکہ اس سے قبل بھی سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔
اسی طرح اگر دس گرام سونے کی قیمت کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دس گرام سونے کی قیمت میں 2915 روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد اس کی نئی قیمت 462,930 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اس تیزی سے اضافہ عام صارفین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے کیونکہ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں سونے کی خریداری ایک اہم روایت سمجھی جاتی ہے۔
دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فی تولہ چاندی کی قیمت میں 192 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد چاندی کی نئی قیمت 9,286 روپے فی تولہ ہو گئی ہے۔ اگرچہ چاندی کی قیمت سونے کے مقابلے میں کم ہوتی ہے لیکن حالیہ اضافے نے اس دھات کو بھی مہنگا بنا دیا ہے جس سے جیولری مارکیٹ پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا بڑھنا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی سونا مسلسل مہنگا ہو رہا ہے اور سرمایہ کار اسے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر خرید رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت پانچ ہزار ڈالر فی اونس سے اوپر مستحکم ہو چکی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق عالمی گولڈ مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 34 ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کی قیمت 5172 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہے۔
عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں اس اضافے کے کئی اسباب بتائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، مختلف ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی، اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں کو سونے کی طرف راغب کیا ہے۔ جب بھی عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے تو سرمایہ کار عموماً سونے میں سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کی طلب بڑھ جاتی ہے اور قیمت اوپر چلی جاتی ہے۔
اگر گزشتہ روز کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ روز عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 30 ڈالر اضافے کے بعد 5138 ڈالر فی اونس ہو گئی تھی جبکہ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا 3 ہزار روپے مہنگا ہو کر 536,562 روپے تک پہنچ گیا تھا۔ اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت میں 2572 روپے کا اضافہ ہوا تھا جس کے بعد اس کی قیمت 460,015 روپے ہو گئی تھی۔ چاندی کی قیمت بھی اس دوران بڑھی تھی اور فی تولہ چاندی 146 روپے اضافے کے بعد 9,094 روپے تک پہنچ گئی تھی۔
مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں اضافہ جاری رہا تو پاکستان میں بھی سونا مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔ اس وقت سونے کی قیمتیں پہلے ہی تاریخی بلند سطحوں کے قریب پہنچ چکی ہیں اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ اس صورتحال نے جیولری کاروبار سے وابستہ افراد کو بھی متاثر کیا ہے کیونکہ جب سونے کی قیمت زیادہ ہوتی ہے تو خریداری کم ہو جاتی ہے۔
پاکستان میں سونے کی قیمت بڑھنے کا ایک اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ زیورات کی خریداری کم کر دیتے ہیں اور صرف ضروری مواقع پر ہی سونا خریدتے ہیں۔ خاص طور پر شادیوں کے سیزن میں سونے کی قیمت میں اضافہ خاندانوں کے بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض افراد اب متبادل کے طور پر چاندی یا دیگر دھاتوں کے زیورات خریدنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت کا تعلق صرف عالمی مارکیٹ سے نہیں بلکہ ملکی معاشی صورتحال سے بھی ہوتا ہے۔ ڈالر کی قیمت، مہنگائی کی شرح، اور ملکی معاشی پالیسیوں کا بھی سونے کی قیمت پر اثر پڑتا ہے۔ اگر ڈالر مہنگا ہو جائے تو سونے کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ پاکستان میں سونے کی قیمت عالمی مارکیٹ کے مطابق طے کی جاتی ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے سونا ہمیشہ سے ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اسٹاک مارکیٹ یا دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سرمایہ کار سونے کی خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس وقت بھی عالمی سطح پر یہی رجحان دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری طرف جیولری مارکیٹ سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت میں اضافے سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے کیونکہ خریداروں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ تاہم کچھ تاجروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی اب بھی برقرار ہے کیونکہ وہ مستقبل میں قیمت مزید بڑھنے کی توقع رکھتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عالمی اور مقامی عوامل کا نتیجہ ہے۔ اگر عالمی مارکیٹ میں یہی رجحان برقرار رہا تو پاکستان میں بھی سونے کی قیمت مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس صورتحال میں عام شہریوں کے لیے سونا خریدنا مزید مشکل ہو سکتا ہے جبکہ سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک موقع بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی معاشی حالات، ڈالر کی قیمت اور سرمایہ کاری کے رجحانات سونے کی قیمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس لیے مارکیٹ پر نظر رکھنا ضروری ہے کیونکہ سونے کی قیمت میں اچانک اتار چڑھاؤ بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ ابھی کے لیے یہی کہا جا سکتا ہے کہ مہنگا سونا مزید مہنگا ہو چکا ہے اور اس کے اثرات پاکستانی مارکیٹ میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

